مشہور سرچ انجن گوگل پر 170ملین ڈالرز جرمانہ عائد کر دیا گیا

Google Logo
07ستمبر2019
(فوٹو اسکرین شاٹ)

ویب ڈیسک: (نیویارک) ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کی دنیا میں منفرد اور اہم شناخت بنانے والی کمپنی گوگل پر یوٹیوب سے بچوں کی ویڈیوز غیرقانونی طریقے سے حاصل کرنے پر(170 ملین ڈالر) 12 کروڑ 24 لاکھ 3 ہزار 383 ڈالر جرمانہ عائد کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گوگل چائلد پرائیویسی قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی ادائیگی کے لیے راضی بھی ہوگیا ہے، گوگل کے خلاف فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور نیویارک کے اٹارنی جنرل کی جانب سے چائلڈ پرائیویسی کی خلاف ورزی بے نقاب کی گئی تھی۔

گوگل پر الزام تھا کہ انہوں نے یو ٹیوب سے بچوں کی غیرقانونی طریقے سے حاصل کرکے بھاری منافع کمایا اور اس اقدام کے لیے بچوں کے والدین کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: گوگل فوٹوز کا ایک انتہائی زبردست فیچر سامنے آ گیا

رپورٹ کے مطابق گوگل سرچ انجن اپنے اس اقدام پر 136 ملین یوٹیوب اور 34 ملین ڈالر اسٹیٹ آف نیویارک کو ادا کرے گا۔ ایف ٹی سی اور سی او پی پی اے قانون کانگریس کی جانب سے 1998 میں منظور کیا گیا تھا۔
ایف ٹی سی کے چیئرمین جوئی سمنز نے گوگل کی جانب سے معاملات طے کرنے کے لیے ووٹ دیا، یوٹیوب قانون کی خلاف ورزی پر کوئی عذر قبول نہیں کیا گیا۔

کوپا قانون کے مطابق سائٹس اپنے ڈیٹا کو شیئر کرنے کے حوالے سے 13 اور اس سے بڑے بچوں کی ویڈیو کو غیرقانونی طور پر استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ یو ٹیوب کا کہنا تھا کہ گوگل سرچ انجن اور دیگر ویب سائٹ پر اس طرح کے اقدامات کے حوالے سے خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سماعت سے محروم افراد کیلئے گوگل کی عمدہ پیشکش

واضح رہے کہ اس سے قبل فرانس کی جانب سے گوگل پر معلومات کی فراہمی میں ناکامی پر 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ فرانس کے مانیٹرنگ ادارے کی جانب سے 5 کروڑ ڈالر سے زائد رقم کا جرمانہ اس لیے عائد کیا گیا کیوں کہ گوگل اپنی پالیسی کے مطابق معلومات فراہم نہیں کرسکا تھا۔

Facebook Comments