ناسا کی جاری کردہ اس تصویر میں کیا خاص بات ہے؟ جانیے اس کی دلچسپ معلومات

Games web telescope
13جولائی2022
( فوٹو: انٹرنیٹ )

ویب ڈیسک: ( اردو گرام آنلائن ) یہ تصویر دیکھیں یہ تصویر ہماری کائنات کی ہے جو کہ آج کی نہیں بلکہ ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے کی ہے۔

یہ تصویر آج ناسا نے ریلیز کی ہے جو کہ جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ نے 8 ماہ کے طویل انتظار کے بعد زمین پر بھیجی جیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 میں لانچ کیا گیا تھا جس نے 5 سال کام کرنا تھا لیکن کامیاب لانچنگ کے بعد اس کے کام کا دورانیہ بڑھا کر 10 سال کیا گیا ۔
آپ اس تصویر میں ستاروں یا سیاروں کو نہیں دیکھ رہے بلکہ اس تصویر میں آپ 13.5 ارب سال پیچھے Galaxies کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس وسیع کائنات کا محض اتنا سا حصہ کہ جیسے کوئی ریت کے ڈھیر سے ریت اٹھا کر اپنے انگلی کی نوک پر رکھے۔ اس تصویر میں آپ کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہیں جس میں Galaxies وافر مقدار میں چمک رہے ہیں کچھ کم کچھ زیادہ۔ ممکن ہے اب ان گلیکسیز میں سے چند تباہ ہو چکی ہوں۔ کیوں کہ ہم تو تیرہ ارب سال پہلے کی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تو یوں سمجھیں کہ آپ ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں جس میں مکمل اندھیرا ہے آپ کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا لیکن کمرے میں موجود تمام چیزیں اپنی جگہ پر موجود ہیں جیسے ہی آپ لائٹ آن کرتے ہیں تو وہ چیزیں آپ کو دکھائی دینے لگتی ہیں چونکہ کمرہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے تو لائٹ فوراً سے پہلے دیواروں سے اور آپ کی آنکھوں کے لینر سے ٹکراتی ہے تو امیج بنتی ہے بالکل ایسے ہی جب بہت سال پہلے کی لائٹ لامتناہی خلا میں سفر کرتی ہوئی جیمز ویب کے کیمروں کے لینز سے ٹکراتی ہے تو وہ امیج بنتی ہے جب وہ کسی گلیکسی یا ستارے سے خارج ہوئی تھی تب کی نہیں جب وہ جیمز ویب کے لینز سے ٹکراتی ہے۔ یا پھر آپ ابھی اپنے فون کا کیمرہ اوپن کریں اور اپنے ہاتھوں کو موشن دیں (بغیر ویڈیو یا پکچر بناتے ہوئے) آپ کو سب سمجھ آ جائے گی تقریباً سو سال پہلے ہم سمجھتے تھے کہ کائنات میں صرف ایک ہی Galaxy ہے جس میں ہم ہیں، جس کا نام Milky Way ہے۔ لیکن اب ہم یہ سمجھتے ہیں اور دیکھ بھی سکتے ہیں کہ جیسے ہمارے Milky Way Galaxy میں اربوں ستارے ہیں اسطرح اربوں ستاروں والے اربوں Galaxies اور بھی موجود ہیں جس میں سے کچھ کی جھلک اس تصویر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے ان اربوں گلیکسیز میں سے کسی ستارے ، سیارے یا کسی چاند پر کوئی زندگی موجود ہو ، یا کہیں ہماری زمین جیسا یا اس سے بہتر ایٹموسفیر موجود ہو۔
روشنی فی سیکنڈ میں 186000 میل کا فاصلہ طے کرتی ہے اور یہ روشنی جو اس تصویر میں Galaxies کی ہمیں نظر آرہی ہے 13.5 ارب سالوں سے سفر کرتے ہوئے ہم تک پہنچ رہی ہے۔ یہ تو بس پہلی جھلک ہے ہم اس ٹیلی سکوپ سے اور بھی پیچھے جاسکتے ہیں جہاں سے کائنات کی ابتداء ہوئی ہے یعنی 13.8 ارب سال پیچھے ہم ابتداء تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جہاں سے ہم ابتداء کائنات کے بارے میں بہت حیرت انگیز حقائق جاننے اور بہت گھمبیر سوالات کے جوابات دھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے ہم بیشتر سیاروں کے ماحولیاتی Chemical compositions کو بھی جان سکیں گے کہ یہ سیارے قابلِ رہائش ہیں کہ نہیں۔
بہت جلد یشتر معمے حل ہونے کو ہیں، بیشتر توہمات کا انتقال ہونے والا ہے

Facebook Comments