دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے اپنی پہلی کامیاب اڑان بھر لی

14اپریل2019
(فوٹو اے ایف پی)

ویب ڈیسک: (کیلیفورنیا) دیو ہیکل طیارہ جس کا حجم ایک فٹبال گراﺅنڈ سے بھی زیادہ ہے اپنی پہلی اڑان بھر چکا ہے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سٹراﺅلانچ نامی اس طیارے نے آزمائشی پرواز کا مظاہرہ کیا اور یہ اتنا بڑا ہے کہ اسے چلانے کے لیے 2 کیبن اور کاک پٹس کی ضرورت ہے۔ یہ طیارہ بالائی خلا میں سیٹلائیٹ لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے سب سے پہلے جون 2017ء میں متعارف کرایا گیا تھا۔ لگ بھگ 2 سال سے اس طیارے کے مختلف شعبوں پر کام جاری تھا اور اب جا کر اس کی پہلی اڑان میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔

یہ طیارہ سٹراؤ لانچ سسٹم نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی ملکیت مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کے پاس ہے، جن کا اکتوبر 2018ء میں انتقال ہو گیا تھا۔ پال ایلن کا اس کمپنی کی تشکیل کا مقصد ایسے طیارے کو بناتا تھا جو زمین کے نچلے مدار تک آسان، قابل بھروسا رسائی فراہم کرسکے۔ اس طیارے کے ذریعے راکٹوں کو فضا میں لانچ کرنے میں مدد مل سکے گی اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سے یہ عمل زیادہ سستا ہوجائے گا جبکہ کمرشل اسپیس پروازیں بھی ممکن ہوسکیں گی۔

اس طیارے نے گذشتہ روز ڈھائی گھنٹے تک اڑان بھری، جبکہ اس سے پہلے زمین پر ہی ٹیسٹ کئے جا رہے تھے۔ اس پرواز کے دوران طیارے نے 304 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پکڑنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ 17 ہزار فٹ بلندی تک گیا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جین فلوئیڈ کا کہنا ہے کہ آج کی اڑان سے گراﺅنڈ لانچ سسٹمز کے متبادل فراہم کرنے کے مشن میں پیشرفت ہوئی ہے۔ اس طیارے کے 385 فٹ کے پر (ونگز) کسی فٹ بال فیلڈ سے زیادہ چوڑے ہیں اور اس طرح یہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بن چکا ہے۔

اس طیارے کی مکمل لمبائی 238 فٹ ہے جبکہ درمیانی حصے کی لمبائی50 فٹ ہے اور اس میں 6 انجن نصب کئے گئے ہیں۔ اس کا وزن پانچ لاکھ پونڈ ہے اور اس کے دونوں کیبن کے لئے 28 پہیے لگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس طیارے نے رواں سال جنوری میں اپنی پہلی پرواز کے لئے اہم پیشرفت اس وقت کی تھی جب اس کے نوز وہیل کو تیز رفتار رن وے ٹیسٹ میں زمین سے اوپر اٹھانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ یہ طیارہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے بازوﺅں کا گھیراﺅ فٹبال کے گراﺅنڈ سے بھی بڑا ہے۔

Facebook Comments