بلیک ہولز کی حقیقت کیا ہے؟ جانیئے مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچر کی روشنی میں

Black Holes And Stefan Hacking
12اپریل2019
(فو ٹو فائل)

ویب ڈیسک: (کراچی ) ماہرین فلکیات نے گذشتہ روز سائنس کے شعبے میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی اور لاکھوں کروڑوں کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ایک ایسے بہت بڑے بلیک ہول کی تصویر کیمرے میں قید کر لی جس میں سے تیز روشنی پھوٹتی نظر آئی۔ لیکن یہ بلیک ہول آخر ہے کیا اور نامور ماہر طبعیات اور فلکیاتی سائنس کے ماہر پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ اس کے بارے میں اپنے لیکچرز کے دوران کئی اہم باتیں کہہ چکے ہیں۔

سائنس کے شعبے میں بلیک ہولز کو دوسری کائنات میں جانے کا راستہ یا موت کا کنواں بھی کہا جاتا ہے۔ جب کوئی ستارہ اپنی عمر مکمل کر لیتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے یا پھر بلیک ہول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی ستارہ بلیک ہول اس وقت بنتا ہے جب اس کے تمام مادے کو ایک چھوٹے سے ایریا میں قید کرلیا جائے، مثلاً اگر سورج کو کرکٹ کی گیند جتنی جگہ میں قید کر لیں تو یہ بلیک ہول میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں جب مادہ ایک چھوٹی جگہ میں قید ہو کر رہ جاتا ہے تو اس میں کشش ثقل اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ یہ سب چیزوں کو کھا جاتا ہے حتیٰ کہ دنیا کی تیز ترین شے یعنی روشنی بھی اس سے بچ نہیں پاتی۔

بلیک ہول کی کشش کا انحصار اس میں موجود مادے کی مقدار پر ہوتا ہے، جتنا زیادہ مادہ اتنی ہی زیادہ کشش۔ اگرچہ معروف سائنسدان پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ اب تک کے دریافت ہونے والے سب سے بڑے بلیک ہول کی تصویر دیکھنے سے پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں لیکن یہ ان ہی کی تحقیق ہے جس کی وجہ سے آج ماہرین یہ کامیابی حاصل کر پائے ہیں۔ پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے اپنے ایک لیکچر میں بلیک ہولز کے متعلق جو کچھ کہا تھا وہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

آپ باہر سے بیٹھ کر کبھی یہ نہیں بتا سکتے کہ ایک بلیک ہول کے اندر کیا ہوتا ہے، آپ اپنے ناکارہ ٹی وی کے ساتھ تمام دشمنوں کو اس کے اندر پھینک کر جان چھڑا سکتے ہیں، اور بلیک ہول کو اس بات کے سوا کچھ یاد نہیں رہے گا کہ ان تمام چیزوں کا کل حجم کیا تھا اور ان پر برقی چارج کتنا تھا۔ کوانٹم میکینکس کے اصولوں کے مطابق دیکھا جائے تو کائنات کا تمام خلا ایسے ذرات (پارٹیکلز) اور اینٹی پارٹیکلز سے بھرا ہے جو مستقل بنیادوں پر جوڑوں میں تقسیم ہو رہے ہیں اور پھر یہ مختلف چارج (منفی اور مثبت) والے ذرات آپس میں ضم ہو کر ایک دوسرے کا وجود ختم کر دیتے ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ کسی جوڑے کا ساتھی پارٹیکل کسی بلیک ہول میں گر جائے اور دوسرا اکیلا رہ جاتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے ساتھ ضم ہو کر فنا ہو۔ ایسی صورت میں یہ بد نصیب پارٹیکل بھی اپنے ساتھی کے پیچھے بلیک ہول میں گر سکتا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ بچھڑا ساتھی لا محدودیت کی جانب چل پڑے اور پھر بلیک ہول سے نکلنے والی روشنی کی شکل میں نمودار ہو۔

اس ساری بات کا مطلب یہ تھا کہ بلیک ہول اتنا بھی تاریک نہیں ہوتا جتنا یہ نام سے لگتا ہے۔ یعنی بلیک ہولز ایسے مستقل قید خانے نہیں جیسا کہ ہم کبھی سمجھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ چیزیں بلیک ہول سے نکل بھی سکتی ہیں اور ان کے انخلاء کا راستہ ممکنہ طور پر کسی اور کائنات میں کھلتا ہو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر آپ بلیک ہول میں پھنسے ہوں تو ہمت نہ ہاریں کیونکہ اس سے نکلنے کا راستہ بند نہیں ہوا۔

Facebook Comments