شعیب اختر نے بھی وزیر اعظم پاکستان سے لاک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ کر دیا

Shoaib Akhtar has demanded Prime Minister Pakistan to lockdown forcefully
23مارچ2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (راولپنڈی) پاکستان کے سابق مایہ ناز فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے مکمل لاک ڈاؤن کی درخواست کی ہے۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں تیزی سے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اب تک ملک بھر میں تقریباً 99 افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔ اپنے یوٹیوب چینل پر شعیب اختر نے لوگوں میں کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی پیدا کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے، یہ ہوا میں رہتا ہے لہٰذا لوگ گھروں میں رہیں کیونکہ اگر کسی ایک کو بھی وائرس لگ گیا تو سب کی جانوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کراچی لاک ڈاؤن کا پہلا روز، 58 افراد خلاف ورزی پر گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی، 90فیصد کیسز انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور اسی وجہ سے کیسز بڑھ رہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ لوگ گھروں میں بیٹھنے کو تیار ہی نہیں ہیں، یہ تو سراسر قتل عام ہے، آپ اپنی اور لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

لوگ یہ بات چھوڑ دیں کہ گرمی پڑے گی تو وائرس ختم ہو جائے گا یا اس سے نوجوانوں کو کچھ نہیں ہوتا یا 90فیصد لوگ بچ رہے ہیں، ان تحقیقات کو چھوڑیں، اپنی جان کی فکر کریں، موت یہ نہیں دیکھے گی کہ آپ 97فیصد میں سے ہیں یا نہیں ہیں۔

شعیب اختر نے پابندی کے باوجود باہر گھومنے والے افراد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں ابھی پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں اور وہاں لوگ بھرے پڑے ہیں، گھوم پھر رہے ہیں اور ٹریفک رواں دواں ہیں۔

دنیا کے تیز ترین باؤلر کے اعزاز کے حامل شعیب نے کہا کہ لوگوں نے باتیں نہیں ماننی لہٰذا میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ سخت اقدامات کریں، یہاں لاک ڈاؤن شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وائرس اتنی جلدی جانے والا نہیں ہے کیونکہ ابھی تک اس کی کوئی دوائی بھی نہیں بنی ہے لہٰذا میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ مہربانی لاک ڈاؤن کر دیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: حکومت کا 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کیلئے ریلیف پیکج دینے کا اعلان

دنیا کے تیز ترین سابق نے مزید کہا کہ اٹلی نے لاک ڈاؤن میں دیر کر کے بہت بڑی غلطی کردی اور وہاں پانچ ہزار بندہ مر چکا ہے اور کیسز بڑھتے جا رہے ہیں۔ شعیب اختر نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہاں بات نہیں سنیں گے، کرفیو لگائیں اور دفعہ 144نافذ کریں، لاک ڈاؤن کریں اور لوگوں کو ایک گھنٹے کا وقت دیں تاکہ وہ سامان خرید سکیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کو غسل و کفن کیسے دیا جائے گا؟ فتویٰ جاری

شعیب اختر نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میری نہیں پورے پاکستان کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہماری جانیں خطرے میں ہیں۔ سابق کرکٹر نے ریسٹورنٹ 10بجے بند کرنے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 10بجے ریسٹورنٹ کیوں بند کر رہے ہیں، کیا اس سے پہلے وائرس نہیں ہو گا؟۔

شعیب اختر نے لوگوں کو درخواست کی کہ اپنے گھروں میں لوگوں کو نہ بلائیں، پارٹیاں نہ کریں، خدا کا خوف کریں اور اور خود کو تین ہفتے کے لیے بند کردیں کیونکہ چین نے بھی لاک ڈاؤ کے ذریعے اس وائرس کو شکست دی۔ ‘اگر اس ملک میں خدانخواستہ وائرس پھیلا تو کوئی لاشیں اٹھانے والا نہیں ہو گا، تمام انسانوں سے درخواست ہے کہ اس قتل عام میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔

Facebook Comments