سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے رمیز راجا کو تگڑا مشورہ دے دیا

Khalid Mehmood Former Chairman PCB
29اگست2021
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے کہا کہ احسان مانی کا 3 سالہ دور ملا جلا رہا، پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سفر تیز تو ہوا لیکن دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ نہ ہونے سے کھلاڑی سخت مشکلات کا شکار بھی ہوئے، جس کی وجہ سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان رہا۔

انہوں نے کہا کہ نئے چیئرمین رمیز راجہ کو بورڈ میں پہلے سے موجود آفیشلز کے چیلنج کا سامنا ہو گا، اس لئے میرے خیال میں ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان اور چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت دیگر بلاضرورت عہدوں پر موجود افراد کو ہٹا دینا چاہیے، تاکہ تنخواہوں کا بھاری بوجھ کم کیا جا سکے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سرفراز نواز نے رمیز راجہ کے نئے پی سی بی چیئرمین بننے کی مخالفت کر دی

سابق چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ کسی کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، شہریت کہیں کی بھی ہو دیکھنا یہ چاہیے کہ جسے ذمہ داری سونپی جا رہی ہے کیا وہ اسے نبھانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں، اگر کوئی عہدیدار زمینی حقائق سے لاعلم اور پاکستان کرکٹ کے تقاضے نہیں سمجھ سکتا تو اسے باہر سے لا کر بٹھا دینے کی کوئی منطق نہیں، اگر کوئی وہاں کامیاب تھا تو ضروری نہیں کہ یہاں بھی ہو، پی سی بی عہدیداروں میں مقامی کرکٹ کی سمجھ بوجھ اور درست سمت میں کام کرنے کی صلاحیت ہونا چاہیے۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم کو عہدے سے ہٹایا جائے، سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے رمیز راجہ کو مشورہ دے دیا
کام چوروں کو نکالو، مفت کی روٹیاں توڑنے والے تمام افراد کو ہٹایا جائے، سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے رمیز راجہ کو مشورہ دے دیا

Facebook Comments