بھارتی کرکٹر ہردیک پانڈیا،کے ایل راہول اور فلم ساز کرن جوہر کے خلاف مقدمہ درج

07فروری2019
(فوٹو ڈی این اے انڈیا)

ویب ڈیسک: (جودھپور) معروف بھارتی شو کافی وِد کرن کے میزبان کرن جوہر ،بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہردیک پانڈیا اور کے ایل راہول کے خلاف خواتین سے متعلق نازیبا زبان استعمال کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تینوں کے خلاف راجستھان کے شہر جودھپور کی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم ابھی تک درخواست گزار کا نام سامنے نہیں آیا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے یہ دونوں کھلاڑی کافی وِد کرن شو کا حصہ بنے،اس دوران شو کے میزبان کرن جوہر نے ہردیک پانڈیا سے کہا کہ انہیں ان خواتین کے نام کیوں یاد نہیں جن سے وہ کلب میں ملاقات کرتے ہیں،جس پر ہردیک پانڈیا نے کہا کہ ’’مجھے انہیں دیکھنا اور غور کرنا پسند ہے کہ وہ چلتی کیسے ہیں،میں بھی تھوڑا بہت سیاہ فام ہوں تو اس لئے مجھے دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ کس طرح سے چلتی ہیں‘‘۔

علاوہ ازیں انہوں نے خواتین سے متعلق نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی پارٹی کے دوران میرے والدین مجھ سے پوچھتے ہیں میری والی کونسی ہے؟جس پر میں ہر لڑکی کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہوں کہ یہ والی بھی اور یہ والی بھی،اور وہ کہتے ہیں کہ واہ بیٹا ہمیں تم پر فخر ہے‘‘۔

جب یہ شو نشر ہوا توسوشل میڈیا پر ہردیک پانڈیا،کرن جوہر اور کے ایل راہول کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا،ہردیک پانڈیا کے بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہار تو کیا ہی گیا ساتھ ہی ساتھ کرن جوہر اور کے ایل راہول پر بھی الزام لگا یا گیا کہ انہوں نے ہردیک پانڈیا کو ایسے بیانات دینے میں مدد کی بلکہ انہیں ایسی باتیں کرنے پر مجبور کیا۔

سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد کافی وِد کرن کی اس قسط کو ہٹا دیا گیا۔

بعد ازاں ہردیک پانڈیا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ناظرین سے اپنے دئیے گئے بیانات پر معافی طلب کی۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں ہر اس شخص سے معافی مانگتا ہوں،جسے میرے کافی وِد کرن میں کہے جملوں سے تکلیف پہنچی،حقیقت یہ ہے کہ جیسا شو کافی وِد کرن ہے،میں اس حساب سے بات کرتا رہا،میرا ارادہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا نہیں تھا‘‘۔

واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام نے ہردیک پانڈیا اور کے ایل راہول کے خواتین سے متعلق نازیبا بیانات دینے پر انہیں معطل کر کے انکے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

Facebook Comments