کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ صرف قانون سازی سے حل نہیں کیا جا سکتا! قبلہ ایاز

23اگست2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف قانون سازی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی سےمتعلق 1961ء میں بھی قانون سازی ہوئی، جبری قانون سازی مسائل کا حل نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں قانون سازی کے باوجود کم عمری کی شادی کا مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے، اس حوالے سے جب تک عوامی شعور اجاگر نہیں کیا جاتا، مسئلہ جوں کا توں ہی رہے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کیا کرنے سے پاکستان ریاست مدینہ بن سکتا ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے بتا دیا

ان کا کہنا تھا کہ علما سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں، اب حکومت کا کام ہے کہ وہ سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے عوامی مہم چلائے۔

چاند کی رویت کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ایک ہی دن روزہ اور عید کیلئے جلد مذاکرات کا اہتمام کیا جائے گا، میں خود مفتی پوپلزئی کے پاس جاؤں گا اور ہم مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کریں گے۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں قومی اسمبلی نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کر کے اسے چند اراکین کے تحفظ کے بعد قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔

Facebook Comments