تعمیراتی شعبے کیلئے آرڈیننس کی منظوری! سرمایہ کاروں کیلئے بڑے بڑے پیکیجز کا اعلان

Construction Industry in Pakistan
17اپریل2020
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے آرڈیننس کی منظوری دے دی، جس کے تحت تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا جبکہ بلڈرز، لینڈ ڈیولپرز کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے آرڈیننس کی منظوری دے دی، جس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ترامیم، بلڈرز اور ڈیولپرز کیلئے فکسڈ ٹیکس رجیم ہو گا۔

آرڈیننس کے مطابق فی مربع فٹ اور فی مربع گز کی بنیاد پر فکس ٹیکس کا نفاذ ہوگا جبکہ سیمنٹ، اسٹیل کے علاوہ تمام مٹیریل پر ودہولڈنگ ٹیکس نہیں ہوگا اور سروسز (خدمات) کی فراہمی پر ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ ہو گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ بلڈرز، ڈیولپرز جتنا ٹیکس دیں گے اس کا 10گنا آمدن، منافع کا کریڈٹ لے سکتے ہیں، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے کم لاگت والے گھروں کیلئےٹیکس 90 فیصد کم کر دیا گیا جبکہ نامکمل، جاری اور 31 دسمبر 2020ء سے پہلے کے منصوبے فائدہ اٹھائیں گے، جاری منصوبوں کو اپنی تکمیل کی شرح کے بارے میں خود بتانا ہو گا۔

نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت بقیہ ماندہ حصے کی تکمیل کیلئے ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ کمپنیوں کے شیئرز ہولڈرز کو ادا ڈیویڈنڈز پر ٹیکس نہیں ہو گا۔

آرڈیننس کے تحت مراعات حاصل کرنے کیلئے نئے، جاری منصوبوں کی ایف بی آر میں رجسٹریشن لازمی ہوگی، آرڈیننس کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر، بےنامی اکاؤنٹس رکھنےوالے اور ان کے اہلخانہ، لسٹڈ پبلک کمپنی اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ پر نہیں ہو گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ وزیراعظم پاکستان کا تعمیراتی شعبے کیلئے تاریخی پیکیج کا اعلان

اسکیم کے مطابق منی لانڈرنگ، ٹیررفنانسنگ سے بنائی گئی جائیدادوں پر بھی آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوگا، آرڈیننس کے تحت ذاتی رہائش پر کیپیٹل گین کی ٹیکس چھوٹ ہو گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ حکومت نے عوام سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا اعتراف کر لیا

آرڈیننس میں کہا گیا کہ وفاقی دارالحکومت، صوبہ پنجاب کی طرز پر کنسٹرکشن سروسز کی مد میں سیل ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، مراعات کیلئے منصوبہ 31 دسمبر 2020ء سے شروع اور 30 ستمبر 2022ء تک مکمل ہونا لازم ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ ایف بی آر کا صنعتی اور کمرشل صارفین کیلئے ٹیکس قوانین میں ترمیم کا فیصلہ

آرڈیننس کے تحت ذاتی رہائش پر کیپیٹل گین سرمایہ جاتی منافع سے ایک دفعہ کی ٹیکس چھوٹ ہوگی، گھر کی صورت میں 500 مربع گز سے زیادہ نہ ہو جبکہ فلیٹ 4000 مربع فٹ سے زیادہ نہ ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ حکومتِ پاکستان نے ارب پتی افراد کو ٹیکس ریلیف دے دیا

اسکیم کے مطابق کنسٹرکشن، لینڈ ڈیولپمنٹ کیلئے پلانٹ، مشینری درآمد پر انڈسٹری کےبرابر سہولتیں میسر ہیں اور جائیدادوں کی نیلامی پر ایڈوانس ٹیکس5 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ تعمیرات کی غرض سے پلاٹ کے خریدار کیلئے سیکشن 111 سےاستثنیٰ بھی دیا گیا ہے اور پلاٹ کی قیمت کراسڈ بینکنگ انسٹرومنٹ کے ذریعے 31 دسمبر تک ادا ہونا لازم ہے۔

Facebook Comments