حکومت نے کھانے پینے کی متعدد چیزوں پر ٹیکس ختم کر دیا

25جون2021
(فوٹو : فائل)

اسلام آباد: بجٹ 2021-2020 میں حکومت نے عام آدمی کیلئے خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ دودھ، انڈے اور آٹے سمیت کھانے پینے کی کئی چیزوں پر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ قومی اسمبلی میں بجٹ بحث پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو کرنٹ اکاونٹ خسارے کا سامنا تھا، مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس گئے تو اس نے سخت شرائط رکھیں، اس نے گیس، بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا کہا، اور کہا کہ پیسے تب تک نہیں دیں گے جب تک شرائط نہیں مانتے آئی ایم ایف کی شرائط سے ترقی رک گئی تھی، عمران خان نے مشکل حالات میں دلیری کے ساتھ سخت فیصلے کیے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت ابھی سنبھلی ہی تھی کہ کورونا وائرس کی تین لہریں آئیں، کورونا کے دور میں دنیا بھر میں نیگیٹو گروتھ ہوئی، اور اس کی وجہ سے ہماری گروتھ بھی منفی میں گئی، وزیر اعظم نے کمال حکمت عملی سے اس وبا کا مقابلہ کیا اور مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی، جی ڈی پی کی شرح اندازوں سے بڑھ کر چار فیصد تک پہنچ گئی، اور عمران خان کے کورونا کے حوالے سے اقدامات کو دنیا میں سراہا گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے کوششیں تیز کر دیں

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ 700 ارب کے مزید نئے ٹیکس لگائیں، اور انکم ٹیکس ڈیڑھ سو ارب مزید بڑھانے کا کہا، میں آئی ایم ایف کی اس بات کے سامنے کھڑا ہو گیا، ہماری کوشش ہے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس دہندگان کو بڑھایا جائے، ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس جمع کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ڈیڑھ کروڑ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا آ گیا ہے، ایف بی آر کی حراسگی سب کا مسئلہ ہے، ٹیکس دہندگان کو کچھ نہیں کہا جائے گا، ایف بی آر کو شہریوں کو ہراساں نہیں کرنے دیں گے، اس بار معاملہ میں ایف بی آر کو نہیں بھیجیں گے، ٹیکس نادہندگان سے تھرڈ پارٹی کے ذریعے بات کریں گے، اگر پھر بھی وہ بات نہیں مانتے تو پھر دیکھیں گے، اگر کوئی بہت بڑا ڈیفالٹر ہے اور وہ بات نہیں مانتا تو ہمارے پاس کوئی اتھارٹی ہونی چاہیئے، دنیا بھر میں اس معاملے پر گرفتاریاں ہوتی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کورونا وائرس کے عالمی معیشت پر اثرات! پاکستان کی موجیں لگنے والی ہیں

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں 12 وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کر رہے ہیں، میڈیکل اور پراوٹنڈ فنڈ پر لگائے ٹیکس کو واپس لے لیا ہے، دودھ، انڈے اور آٹے سمیت کھانے پینے کی کئی چیزوں پر ٹیکس ختم کر دئیے ہیں، فیصلہ کیا گیا کہ صنعتوں کو فروغ دینا ہے، بہت سے صنعتی شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی، صنعتی شعبے کو 45 ارب کی مراعات دے رہے ہیں، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو 100ارب کے قرض دیں گے، پولٹری پر ٹیکس 10 فیصد پر لا رہے ہیں، احساس پروگرام کیلئے 260 ارب روپے رکھے گئے ہیں، توانائی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹ 900 ارب روپے ہے، عمران خان نے بجلی کی قیمت بڑھانے سے منع کیا ہے۔ وزیر اعظم ملک میں ای ووٹنگ سسٹم متعارف کروانا چاہتے ہیں، ای ووٹنگ سسٹم کیلئے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جون 2022 تک 10 کروڑ افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا ہدف ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ اقوام متحدہ نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے اچھی خبر دے دی

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میری گاڑی کے نام سے نئی اسکیم متعارف کرائیں گے، 800 کے بجائے 1000 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس کم کر رہے ہیں، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا، 5 منٹ سے زیادہ کال پر 75 پیسے ٹیکس لیں گے، کنسٹریکشن پیکیج کے تحت انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد کر دی، سونے کی ویلیو ایڈیشن 17 فیصد رہے گی، سونے چاندی پر ٹیکس ایک اور 3 فیصد کر دیا، ای کامرس ٹیکس ختم کر دیا گیا، رجسٹرڈ ای کمپنیوں پر صفر ٹیکس ہو گا اور نان رجسٹرڈ پر 2 فیصد ٹیکس ہو گا، کھاد زرعی آلات وغیرہ پر ٹیکس کم کر رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ آج چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سے ایک ہے، عمران خان

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس بار غریب کو مدنظر رکھا گیا ہے، غریبوں کو کاروبار کیلئے پانچ لاکھ روپے کا بلاسود قرض دیا جائے گا، کاروبار کیلئے بھی قرضے دیئے جائیں گے، صحت کارڈ بھی شہریوں کو دیئے جائیں گے، کسان کی مصنوعات پر ملک بھر میں ایگری مالز بنانے جا رہے ہیں، زرعی شعبے کیلئے 25 ارب اضافی رکھے ہیں، اس بار محصولات کا ہدف 5800 ارب روپے رکھا گیا ہے، آٹو سیکٹر کیلئے بھی پالیسی تیار کی گئی ہے، آئی ٹی کے شعبے پر بھی توجہ دے رہے ہیں، اب ہم نے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، چینی سرمایہ کاروں کو مزید شعبوں میں لے کر آئیں گے، چین کے علاوہ بھی دیگر ممالک سے سرمایہ کاروں کو بلائیں گے، اس وقت سی پیک کے تمام مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔

Facebook Comments