سلیم صافی اور شہباز گل میں لفظی جنگ، ایک دوسرے کیلئے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال

Saleem Safi
08اگست2022
( فوٹو: فائل )

ویب ڈیسک: ( اسلام آباد ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل اور تجزیہ کار سلیم صافی میں ٹوئٹر پر لفظی جنگ چھڑ گئی ، دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

معاملہ خاتون صحافی جویریہ صدیق کے ایک ٹویٹ سے شروع ہوا ۔ صدرِ مملکت کے بلوچستان کے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے افسران کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے چلنی والی خبروں پر صحافی جویریہ صدیق نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا “اگر سلیم صافی کی صدر پاکستان والی خبر میں صداقت ہوتی تو عمران خان کیسے تعزیت پر چلے گئے انکو جھوٹی خبر پر قارئین سے معافی مانگنا چاہیے۔”

 اس ٹویٹ کے جواب میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا “سلیم صافی اور ان سے ایسی خبریں لگوانے والے شیطان بے شرمی کے اعلی مقام پر ہیں۔جب میں نے کوآرڈینیشن کے لئے شہید جنرل سرفراز کے بیٹے کیپٹن احمد سے فون پر بات کی تو ایسی اپنائیت تھی آواز میں جیسے دو بھائی بات کر رہے ہوں۔شہدا کے خاندان نے اس طرح خان صاحب کا احترام کیا جیسے کوئی اپنا ہو۔”

شہباز گل کے ٹویٹ پر سلیم صافی نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا “گل صاحب:آپ پاکستان میں نئےہیں۔آپ امریکیوں کی نوکری کرتےہوئےانکے کلچراور پروٹوکول کےعادی ہوئےہیں۔شہید کی تدفین کےلئےفوج کےافسران کی کمیٹی قائم تھی کیاان میں سےکسی اعلی افسر نےعمران کااستقبال کیا؟ سابق وزیراعظم ہونےکےناطےکیاعلاقےکےجی او سی یا اعلی افسر نےعمران خان کوپروٹوکول دیا؟”

سلیم صافی کو جواب دیتے ہوئے شہباز گل نے کہا “ہاں یہ درست ہے کہ میں امریکیوں کا استاد رہا ہوں۔ اور ایسی یونیورسٹی میں استاد رہا ہوں جہاں آپ جیسا نالائق گھسنے کا بھی نہیں سوچ سکتا۔ ہمارے کلچر میں جب کوئی وفات پاتا ہے تو آپ اس کے دفتر کی کمیٹی سے افسوس نہیں کرتے اس کے گھر کےافراد کو گلے لگاتےہیں۔پُرسا دیتے ہیں۔وہی ہم نے کیا۔رہی بات نئے ہونے کی،  زندگی کے پہلے 30 سال یہیں اسی مٹی میں پلا بڑا۔پھر امریکہ میں پڑھایا۔ لیکن جب آپ جیسی بیماریوں کو پاکستان میں پلتے بڑھتے دیکھا فیصلہ کیا ایسی بیماریوں کا علاج خود آ کر کروں۔ آپکی فکری بیماری لاعلاج ہے آپ نے اپنی حرکتیں جاری رکھنی ہیں اور میں نے آپ کا علاج۔”

Facebook Comments