سندھ سے تعلق رکھنے والی پشپا کوہلی نے وہ کام کر دیا جو آج تک کوئی ہندو خاتون نہ کر سکی

05ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (کراچی) پاکستان میں سرکاری عہدوں پر اقلیتوں میں سے بہت کم لوگ فائز ہیں، لیکن اب وقت بدل رہا ہے، سندھ کی ایک ہندو خاتون پولیس میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادہ تر میڈیکل کی شعبے سے وابستہ ہیں لیکن اب سندھ پولیس میں پہلی بار ہندو خاتون کو اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ ہندو خاتون پشپا کماری ہمیشہ سے سندھ پولیس میں بھرتی ہونے کا خواب تو نہیں دیکھتی تھیں، لیکن انہوں نے سنہ 2014ء میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے کری ٹیکل کیئر میں گریجویشن مکمل کیا تھا، پشپا کوہلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ ہندو لڑکی نے دوستی کا حق ادا کر دیا

پشپا کماری اس سے قبل بینظیر بھٹو ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سینٹر میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ٹیکنولوجسٹ کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں پھر انہوں نے کسی دوسرے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

پشپا کماری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کثیر تعداد میں ہندو لڑکیاں میڈٰیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر میں اب کچھ نیا کرنا چاہ رہی تھی اس لئے میں نے پبلک سروس کمیشن میں پولیس میں بھرتی ہونے کیلئے پیپر دیئے۔

پشپا نے 2018ء میں اے ایس آئی کی آسامی کیلئے اپلائی کیا اور جنوری 2018ء میں تحریری امتحان پاس کیا اس کے بعد پشپا کو فائنل انٹرویو کیلئے کال آئی۔ فائنل انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کے دو ہفتے بعد کامیاب امیدواروں کی فہرست آویزاں کی گئی جس میں پشپا کماری کا نام بھی موجود تھا۔

پشپا کماری کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس میں ہندو خواتین تو موجود ہیں لیکن وہ کانسٹیبل کے عہدے پر ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں، میں پہلی خاتون ہوں جس نے اے ایس آئی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ہندو خاتون پشپا کا کہنا ہے کہ ان کا خواب اے ایس آٗئی تک ہی محدود رہنا نہیں ہے بلکہ وہ کرمنالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر کام کرنا پسند کریں گی۔

پشپا کماری کہتی ہیں کہ میرے پولیس میں شامل ہونے کے بعد دیگر خواتین کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ اپنے کریئر کے انتخاب میں ہمت کرتے ہوئے پولیس، فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ میں شامل ہوں گی۔

Facebook Comments