پنجاب کورونا آرڈیننس 2020 منظور، کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا سکے گی

Punjab Corona Ordinance 2020 approved the movement of any person will be monitored
25مارچ2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) صوبائی کابینہ نے پنجاب کورونا آرڈیننس 2020 کی منظوری دے دی۔ آرڈیننس کے تحت پنجاب میں کسی بھی شخص کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے گا، کسی بھی شہری کو علاج کی غرض سے تحویل میں لے کر گھر سے سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکے گا۔

آرڈیننس کی حکم عدولی پر 10 ہزار روپے سے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا ہو گی، صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سیکرٹری صحت کیپٹن (ر)محمد عثمان نے آرڈیننس پیش کیا۔ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پنجاب کابینہ نے آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں منگل 24 مارچ سے 2 ہفتوں کے لئے باقاعدہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے اور صوبہ بھر میں ہر قسم کے مذہبی و سماجی اجتماعات پر پابندی ہے جبکہ ملکی و غیر ملکی فضائی آپریشن بھی مکمل بند ہے۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعلان کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ لاہور اور راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی ادارے مکمل بند ہیں تاہم بینک، میڈیکل اسٹورز اور اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی ہیں اور شہریوں کو وہاں سے خریداری کی اجازت ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: حکومت کا 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کیلئے ریلیف پیکج دینے کا اعلان

اندرون شہر، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند ہے جبکہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے تاہم صرف فیملیز کو اس پابندی سے استثنیٰ ہے۔ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کے لئے پولیس الرٹ ہے، شہریوں کو دکانوں پر ناشتہ کرنے کی اجازت نہیں، تاہم کھانا ساتھ لے جانے کی اجازت ہے۔ لاہور شہر میں سڑکیں سنسان ہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابرہے۔ شہر میں شاہ عالم مارکیٹ، لبرٹی، اوریگا، اچھرہ سمیت تمام شاپنگ سنٹرز اور تجارتی مراکز بند ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کو غسل و کفن کیسے دیا جائے گا؟ فتویٰ جاری

کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر تبلیغی مرکز رائیونڈ کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ تبلیغی مرکز میں موجودجماعت کے لوگوں کو فوری طور پر اپنے گھر جانیکی ہدایت کی گئی ہے اور غیرملکی طلباء کو مرکز سے باہر نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Facebook Comments