وزیر اعظم عمران خان کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

22جون2021
فوٹو : فیس بک/عمران خان آفیشل

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عورت اگر مختصر کپڑے پہنے گی تو سوائے روبوٹ کے مردوں پر غلط اثر پڑے گا۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، سیاسی حل کے بغیر افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے، سیاسی حل یہ ہو سکتا ہے کہ ایک اتحادی حکومت تشکیل دی جائے جس میں طالبان اور دوسرے فریق شامل ہوں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے امریکا کو افغانستان کیخلاف اپنی سرزمین دینے سے انکار کر دیا

وزیر اعظم نے کہا کہ جو بھی افغان عوام کی نمائندگی کرتا ہے ہم اس سے رابطہ رکھیں گے، طالبان نے افغان جنگ میں فیصلہ کن فتح کی مہم شروع کی تو بڑے پیمانے پر خون ریزی ہو گی جس کے نتیجے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا، لہٰذا امریکا کو انخلاء سے قبل لازمی طور پر سیاسی حل نکالنا ہو گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بلین ٹری منصوبے نے کام کر دکھایا! دنیا نے عمران خان کو عالمی لیڈر مان لیا

عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور سی آئی اے کو افغانستان میں فوجی کارروائیوں کیلئے اپنی سرزمین اور فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گا، کیونکہ امریکا کی جنگ میں سب سے زیادہ پاکستان کا نقصان ہوا ہے اور ہمارے 70 ہزار افراد کی جانیں گئی ہیں، ہم اس جنگ کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے، ہم امن میں شراکت دار ہوں گے لیکن تنازع میں نہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ عمران خان کا 6 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں کارروائیوں کیلئے امریکی ایئر فورس کو اپنی فضائی حدود بھی استعمال نہیں کرنے دیں گے، آخر جب 20 سال تک کوئی فائدہ نہ ہوا تو اب امریکا کیوں افغانستان پر بمباری کرے گا، اس کا اب کیا فائدہ ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں 1.4 ارب کی آبادی ہے جو کشمیر کے تنازع کی وجہ سے یرغمال بنی ہوئی ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وہاں استصواب رائے ہونا چاہیئے، اگر امریکا چاہے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ محمد علی جناح کے بعد عمران خان پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر ہیں! گورنر سندھ

عمران خان نے بتایا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف ملک کے دفاع کیلئے ہے، یہ کسی ملک کے خلاف جارحیت کیلئے نہیں ہے، میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہوں، مجھے پاکستان اور بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونے پر خوشی ہو گی، کشمیر کا مسئلہ حل ہو گیا تو ان ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ یہ ہوتی ہے قیادت یہ ہوتا ہے اپنوں کا احساس! عمران خان کی بہترین لیڈر شپ کی زندہ مثال

چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ چینی حکومت کے مطابق ایسا نہیں ہے، چین نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، مغربی دنیا میں کشمیر کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے عمران خان بولے کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے، ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہٰذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے معاشرے کیلئے مضمرات ہوں گے، اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو یقینی طور پر مرد پر اثر پڑے گا سوائے اس کے کہ وہ روبوٹ نہ ہو، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

زمانہ کرکٹ میں اپنی پلے پوائے جیسی زندگی سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ یہ میری ذات کی نہیں بلکہ میرے معاشرے کی بات ہے، میری ترجیح یہ ہے کہ میرا معاشرہ کیسے برتاؤ کرتا ہے اور کیا ردعمل آتے ہیں، لہٰذا جب ہمارے ہاں جنسی جرائم بڑھتے ہیں تو ہم بیٹھ کر اس مسئلے کا حل سوچتے ہیں۔

Facebook Comments