وزیرِ اعظم کی بنائی گئی کشمیر کمیٹی میں مزید وسعت کا اعلان! اہم افراد کو شامل کیا جائے گا

09اگست2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) حکومتِ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھارتی اقدامات کا جائزہ لینے اور ان پر سفارشات ترتیب دینے کیلئے بنائی گئی 7 رکنی کمیٹی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اس کمیٹی میں اپوزیشن کو شامل ہونے کی دعوت دے گی۔ علاوہ ازیں جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کو بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی جبکہ صدر اور وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر اور گورنر گلگت بلتستان کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 6 اگست کو وزیرِ اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر قانونی، سیاسی، سفارتی ردِعمل سے متعلق سفارشات تیار کرنے کیلئے ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی میں وزیرِ خارجہ، اٹارنی جنرل فار پاکستان، سیکریٹری خارجہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی کو شامل تھے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔سینیٹر رضا ربانی نے کشمیر تنازع پر وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کر دیا

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات معطل اور سفارتی تعلقات محدود کر دیئے تھے۔ پاکستان نے یہاں موجود بھارتی ہائی کمشنر کو ملک سے واپس جانے کی ہدایت کی تھی جبکہ اپنے نامزد ہائی کمشنر کو نئی دہلی بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں بھارت سے ثقافتی تعلقات کی معطلی کا اعلان بھی سامنے آیا تھا جبکہ 14 اگست کو یومِ آزادی کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے 15 اگست یعنی بھارت کے یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ اور تھر ایکسپریس اور بس سروس کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Facebook Comments