نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دے دی گئی ؟

Farogh Naseem
13نومبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کو صرف ایک بار کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف کو 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وفاقی حکومت کسی بھی وقت اجازت نامہ جاری کر دے گی، باقی ان کی مرضی۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ‘وزارت داخلہ کے پاس ایک درخواست موصول ہوئی تھی جس کے ساتھ نواز شریف کی صحت کے بارے میں شریف میڈیکل سٹی کی تفصیلی رپورٹ بھی موجود تھی’۔

ڈان نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ موصول رپورٹ پر پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے کراس چیک کرنے کے بعد اتفاق کیا اور مزید تفصیلات طلب کیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 نومبر کو وزارت داخلہ کے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی تھی اور اس ہی دن نوٹس جاری کیا گیا، 12 تاریخ کو کابینہ کو بریفنگ دی اور انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کیا۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی کو نواز شریف کے صحت کے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد 25 سے 30 ہزار ہیں اور انہیں ایک بار اسٹروک بھی آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی نہیں معلوم تھا کہ صورتحال اتنی سنگین ہے جس کے بعد کابینہ نے فیصلہ کیا کہ بانڈ جمع کرانے پر انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: نواز شریف کے باہر جانے میں مریم نواز کس طرح رکاوٹ بنی ہوئی ہے؟ ملیحہ ہاشمی نے بتا دیا

انہوں نے کہا کہ 2010 کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے قوانین اور 1981 کے آرڈیننس میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی سزا یافتہ شخص کو ای سی ایل سے اس وقت تک نہیں ہٹا سکتے جب تک اس کی کوئی ضمانت نہ حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم ایک مرتبہ اجازت دیا جانا ای سی ایل سے نام ہٹایا جانا نہیں ہوتا اور وقت کے ساتھ ساتھ متعدد لوگوں کو اجازت دی جا چکی ہیں اور کمیٹی کو حج اور دیگر مواقع پر ایسی درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔

نواز شریف کی طبیعت اگر ٹھیک نہ ہو تو قیام میں توسیع کی درخواست دی جاسکتی ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کے پاس سیکیورٹی بانڈ مانگنے کا اختیار نہیں، ضمانت عدالت دیتی ہے تاہم 1981 کے قانون کے سیکشن 3 کے مطابق جب بھی ای سی ایل میں کسی کو ڈالا جائے تو حکومت کے پاس اس کا اختیار ہوتا ہے اور شہباز شریف کی درخواست میں بھی یہی کہا گیا تھا’۔

اس سے قبل 2007 میں سزا یافتہ رؤف قادری کو بھی ایک بار باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ہماری دعا نواز شریف کے ساتھ ہے کہ وہ جلد از جلد صحتیاب ہو کر واپس آئیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف صاحب جب ملک سے باہر گئے تھے تو وہ سزا یافتہ نہیں تھے۔

اس موقع پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ذیلی کمیٹی کے فیصلے میں قانون کا خیال رکھا گیا ہے، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے ہٹایا نہیں جا رہا، سزا یافتہ مجرم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہیں نکالا جا سکتا ہے، یہ صرف ایک بار کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل عوام یا عدالتیں بھی ہم سے سوال کر سکتی تھیں کہ سزا یافتہ مجرم کو بغیر کسی یقین دہانی آپ نے کیسے باہر جانے دیا، جس کی وجہ سے قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے یقین دہانی ہم نے طلب کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی این آر او یا ڈیل نہیں ہوئی، میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے، اگر کسی کو حکومتی فیصلے پر اعتراض ہے تو عدالت جائے۔

Facebook Comments