نیب کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک اور ریفرنس دائر

Shahid Khaqan Abbasi
07اگست2020
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کر دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کے مطابق شاہد خاقان عباسی کراچی کی پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل-1 کا ٹھیکہ ایم ایس ای ای ٹی پی ایل کو مہنگے داموں دینے میں ملوث تھے۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ ایل این جی کمپنی کو اس ٹھیکے کی بدولت اربوں روپے کا فائدہ ہوا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو سال 2029ء تک 47 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

شاہد خاقان عباسی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں بحیثیت وزیر پیٹرولیم قواعد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل-1 کا 15 سالہ ٹھیکہ دینے کا الزام ہے۔

نیب نے مذکورہ کیس 2016ء میں بند کر دیا تھا جسے 2018ء میں دوبارہ کھولا گیا تھا۔

ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان میں مفتاح اسمٰعیل، شیخ عمران الحق، سعید احمد خان، عظمٰی عادل ان، حسین داؤس، عبد الصمد داؤد، آغا جان اختر، امیر نسیم، شاہد ایم اسلام، عبدالصمد، چوہدری محمد اسلم، فلپ نٹمین اور شاہانہ صادق شامل ہیں۔

نیب نے عدالت کو بتایا کہ راولپنڈی ڈائریکٹوریٹ نے پہلے شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف عبوری ریفرنس دائر کیا تھا اور عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ریفرنس کے مواد کو ضمنی ریفرنس کا لازمی حصہ قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ 28 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، ان کے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔

اس سے قبل 3 دسمبر 2019ء کو نیب نے مذکورہ بالا ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں عبوری ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر شفاف طریقے سے ایل این جی ٹرمینل ون کا ٹھیکہ دیا۔

نیب کے مطابق ان میں سے سرکاری عہدے رکھنے والے ملزمان نے ایل این جی ٹرمینل ون کے سلسلے میں ای ای ٹی ایل/ای ٹی پی ایل/ای سی ایل کو 14 ارب 14 کروڑ 60 لاکھ روپے کا غیر قانونی فائدہ پہنچانے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

اس کے علاوہ مارچ 2015ء سے ستمبر 2019ء تک پی جی پی ایل کے دوسرے ایل این جی ٹرمینل کے استعمال کی گنجائش کا استعمال نہ کر کے 7 ارب 43 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ اسحاق ڈار پاکستان نہ آ کر بہت اچھا کر رہے ہیں! شاہد خاقان عباسی

اس طرح ستمبر 2019ء تک مجموعی طور پر خزانے کو 21 ارب 58 کروڑ 40 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ آئندہ 10 برسوں میں یعنی 2029ء میں ٹھیکے کی مدت ختم ہونے تک مزید 47 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعظم عمران خان کو کیا کہہ کر پکارا؟

نیب کے مطابق 2013ء سے 2017ء کے دوران عبداللہ خاقان عباسی کے اکاؤنٹ میں ایک ارب 42 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ شاہد خاقان عباسی کے اکاؤنٹ میں ایک ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے موصول ہوئے جس دوران مذکورہ بالا ایل این جی ڈیل کی گئی تھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 7 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل

نیب کا کہنا تھا کہ مذکورہ رقم کا ذریعہ چھپا کر ملزمان منی لانڈرنگ کے جرم کے بھی مرتکب ہوئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کیلئے نئی مشکل کھڑی ہو گئی

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ نیب نے شاہد خاقان عباسی کو گذشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا تھا اور وہ 200 دن قید میں رہنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر رہا ہوئے تھے۔

Facebook Comments