مفتی عزیز الرحمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا

Mufti Aziz ur Rehman
22جون2021
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) لاہور میں قائم مدرسے جامعہ منظورالاسلام سے منسلک مفتی عزیز الرحمان نے طالب علم سے زیادتی کرنے کے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ روز انویسٹی گیشن شمالی چھاؤنی پولیس نے مفتی عزیز الرحمان کو میانوالی سے گرفتار کیا تھا، پولیس کے مطابق مدرسے میں طالب علم کے ساتھی مبینہ نازیبا ویڈیو کیس کے مرکزی ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

مفتی عزیزالرحمان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ طالب علم سے زیادتی کی ویڈیو میری ہی ہے، مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں اس پر شرمندہ ہوں، متاثرہ بچے صابر شاہ نے چھپ کر ویڈیو بنائی جس کا مجھے علم نہ تھا، اور مجھے پتہ چلا تو میں نے اسے ویڈیو وائرل کرنے سے منع کیا تاہم میرے منع کرنے کے باوجود اس نے ویڈیو وائرل کر دی، اور ویڈیو وائرل ہونے پر میرے بیٹوں نے اسے ڈانٹا، اور دھمکیاں بھی دیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مدرسے میں زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والے بچے کے اہل خانہ پر صلح کیلئے دباؤ

مفتی عزیز الرحمان کو بدفعلی کے مقدمے میں کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے ملزم عزیز الرحمان کو 4 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا میڈیکل چیک اپ بھی کیا جائے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کم سن طالب علم سے زیادتی کے الزام میں پولیس نے مولوی شمس الدین کو دھر لیا

واضح رہے کہ لاہور میں مدرسے جامعہ منظورالاسلام سے منسلک مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیو لیک ہوئی تھی، جس میں وہ بچے کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے دکھائی دیئے، جس کے بعد پولیس نے بدفعلی کا شکار ہونے والے نوجوان صابر شاہ کی درخواست پر مفتی عزیز الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق نوجوان صابر شاہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جس پر پولیس نے مقدمہ میں بدفعلی کرنے اور جان سے مارنے کی دفعات درج کیں۔

Facebook Comments