مولانا فضل الرحمان کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، جے یو آئی ف

fazal-ur-rehman
09اکتوبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) نے ڈی چوک پر آزادی مارچ کے لیے انتظامیہ کو درخواست دے دی۔

جے یو آئی ف کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفورحیدری کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آبادکو دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو ڈی چوک میں آزادی مارچ کی اجازت دی جائے، جمعیت علمائے اسلام آزادی مارچ نکالنے کا جمہوری اور آئینی حق رکھتی ہے۔

جے یو آئی ف نے کہا کہ ڈی چوک میں آزادی مارچ کے شرکاء کے لیے سیکورٹی کے ضروری اقدامات کئے جائیں، امیر جے یو آئی فضل الرحمان کی زیرقیادت مارچ میں کارکنان کی بڑی تعداد شامل ہوگی۔

بعدازاں مولانا عبدالغفورحیدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے این او سی کی ضرورت نہیں، صرف اطلاع دیتے ہیں، اپنے آئینی حق کے لیے اجازت نہیں بلکہ اطلاع کی ضرورت ہوتی ہے، لمحہ بہ لمحہ حالات دیکھ کر آزادی مارچ کا فیصلہ کریں گے، اگر کسی ادارے نے کسی کو سپورٹ کیا تو اپنی ساکھ کا نقصان کریں گے، ہماری جنگ اداروں کے ساتھ نہیں بلکہ سلیکٹڈ حکومت کے ساتھ ہے جو ہم جیتیں گے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: مولانا فضل الرحمٰن کی پاک فوج کیخلاف تازہ ترین ہرزہ سرائی

عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، مرکز کا فیصلہ ہے کارکنان مارچ کو کامیاب بنائیں، ہمارے کارکنان کو تنگ کیا جارہا ہے، تمام کارکنان ہمارے ساتھ رابطے میں رہیں، 27 اکتوبر کو گھروں سے نکلیں اور اسلام آباد کی طرف قدم بڑھائیں، ہم نے آزادی مارچ کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے، ڈی چوک میں اسپیکر، اسٹیج، باتھ رومز اور بجلی کا بندوبست کررہے ہیں۔

جے یو آئی ف کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ قوم کشمیر کے سودے پر وزیراعظم سے جواب طلب کرے، ہمارے حکمرانوں نے کشمیر بیچ دیا اب مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، 27 اکتوبر کو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں، ہم نے 27 اکتوبر کا انتخاب اس لئے کیاکہ اس دن بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئیں، آزادی مارچ کوریج پرمیڈیا کے شکرگزار ہیں۔

Facebook Comments