مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کر دی گئی

Maryam Nawaz
05ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں ایک مرتبہ پھر 14 روز کی توسیع کردی۔

احتساب عدالت کے منتظم جج امیر محمد خان نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کی، جہاں مریم نواز اور یوسف عباس کو نیب کی جانب سے پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ مریم نواز کو 8 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں پہلی بار 21 اگست تک کے لیے جسمانی ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا، جس کے بعد مزید 14 روز کی توسیع کی گئی تھی جو آج 4 ستمبر کو ختم ہوگئی۔ اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ اپنے قائدین سے اظہار یکجہتی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عدالت پہنچے تھے، تاہم غیر متعلقہ افراد کے جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔

ڈان نیوز کے مطابق دوران سماعت ملزمان کے وکیل راجا ذوالقرنین نے جج سے مکالمہ کیا کہ ‘ایجنسیوں اور سرکاری وکلا کو روسٹرم سے ہٹایا جائے، یہاں ایجنسیوں کے لوگ کھڑے ہیں آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے کے لوگ ہمیں دھکے دے رہے ہیں’، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ کھڑے ہیں تو کھڑا رہنے دیں۔

اس پر نیب کے وکیل حافظ اسد اللہ نے مسلم لیگ (ن) کے وکیل کو کہا کہ ہم نیب کے پراسیکیوٹر ہیں، آپ ہوش میں رہ کر بات کریں۔ نیب پراسیکیوٹر نے راجا ذوالقرنین کو کہا کہ آپ اپنے ذہن میں رکھیں، ہم ریاست کی نمائندگی کر رہے ہیں، کسی ایجنسی کی نہیں۔

دوران سماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم اسی دوران نیب پراسیکیوٹر نے ملزم مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کی استدعا کی۔

اس دوران ماہر قانون اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے راجا ذوالقرنین کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔ سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 1992 میں چوہدری شوگر ملز قائم کی گئی جبکہ 10-2008 کے دوران ملزمہ چوہدری شوگر ملز کی مرکزی شیئر ہولڈر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ 16-2015 میں ملزم نواز شریف اچانک چوہدری شوگر ملز کے مرکزی شیئر ہولڈرر بن گئے جبکہ اسی عرصے میں وہ وزیراعظم بھی تھے۔

اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جے آئی ٹی میں چوہدری شوگر ملز کا معاملہ بھی زیر تفتیش آچکا ہے۔وکیل نے کہا کہ ملزمہ مریم نواز ہر طلبی کے نوٹس پر نیب میں پیش ہوتی رہی ہیں، صرف ایک مرتبہ طلبی نوٹس پر پیش ہونے کے لیے مہلت دینے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی اور نیب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، نیب پہلے دن سے ایک ہی نوعیت کے الزامات کے تحت درخواست لا رہا ہے۔ مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام شیئرز دادا میاں شریف نے منتقل کیے تھے اور دادا نے اپنی زندگی میں ہی شیئرز منتقل کیے تھے۔

عدالت میں وکیل نے بتایا کہ مختلف تحقیقات کے بعد آج تک ملزمہ کے خلاف کچھ نہیں ملا اور مریم نواز کا منی لانڈرنگ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اماراتی شہری نصر عبداللہ لوتھا سے رقم وصولی کا کام عباس شریف نے کیا تھا، تفتیشی افسر کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہیں، کچھ بھی برآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔

اس دوران ماہر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خاتون ملزمہ ہونے کی بنیاد پر مریم کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا جا رہا، ہمیں کچھ تحفظات ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کو نیب کے پی ایس کے گھر میں رکھا گیا ہے اور اسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ مریم کے ساتھ خاتون افسران کون کون ہیں؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 4 خاتوں پولیس اہلکار ان کے ساتھ تعینات کی گئی ہیں۔جج نے مریم نواز سے استفسار کیا کہ آپ کی اٹینڈنٹ خاتون ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی سب جیل میں خاتون ہی مجھے اٹینڈ کرتی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر جسمانی ریمانڈ سے متعلق استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا، جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی گئی۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا تھا۔

Facebook Comments