لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا

Pervez Musharraf
13جنوری2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان پیش ہوئے اور خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری اور ریکارڈ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کیخلاف تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سیکریٹری داخلہ کو پرویز مشرف کے خلاف کمپلینٹ درج کروانے کی ہدایت کی، 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو یا نیا نوٹیفیکیشن جاری کرنا چاہئے تھا یا پرانے نوٹیفیکیشن کی تصدیق کرتی، 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 6 میں اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کئے گئے، ایمرجنسی میں بنیادی حقوق معطل کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ پرویز مشرف کیخلاف فیصلے پر عوام بھی میدان میں آ گئے! شہریوں نے کھری کھری سنا دیں

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ضیاءالحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے؟ 12 صفحوں کی کتاب ہے، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا، ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے، اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تو کیا اس حکومت کیخلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟، ایمرجنسی لگائی جائے گی تو پھر اس کا تعین ہوگا کہ کیا ایمرجنسی آئین کے مطابق لگی یا نہیں، یہ سلسلہ چل گیا تو جس کو جو مناسب لگا وہ وہی کرے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ پرویز مشرف کی لاش کو لٹکانے کا فیصلہ! وزیرِ اعظم کی برداشت جواب دے گئی

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے، آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟، آپ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی حیثیت کو بدل دیا، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ایمرجنسی کو شامل رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف کیس ثابت نہیں ہو سکا، جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ

اشتیاق احمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، گورنر پنجاب پھر چیف جسٹس پاکستان پھر صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے، خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے مذکورہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، نئی قانون سازی کے بعد جرم کی سزا ماضی سے نہیں دی جا سکتی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کچھ لوگوں کی مجھ سے ذاتی دشمنی کی وجہ سے یہ کیس عدالت تک گیا! پرویز مشرف

جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ پھر ہم سمجھیں کہ جو پرویز مشرف کا موقف ہے وہی آپ کا موقف ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر میں تو ریکارڈ کے مطابق بتا رہا ہوں۔ لاہور ہائی کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مبشر لقمان نے پرویز مشرف کو پھانسی پر لٹکانے کی ہوش باختہ وجوہات بتا دیں

عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور خصوصی عدالت میں شکایت درج کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنانے کو بھی غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کرنا غیر آئینی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ پرویز مشرف کیخلاف غیر انسانی فیصلہ دینے والوں کی خیر نہیں! میجر جنرل آصف غفور کا دوٹوک اعلان

عدالت نے فوجداری قانون خصوصی عدالت ترمیمی ایکٹ 1976ء کی دفعہ 4 کو کالعدم قرار دیتے کہا کہ آرٹیکل 6 کےتحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments