خود کش دھماکے کا ملزم سزائے موت کے بعد بری کیسے ہوا ؟

Handcuffs
10اکتوبر2019
(فوٹو شٹر اسٹاک)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آر اے بازار راولپنڈی خودکش دھماکے میں سزائے موت کے ملزم عمر عدیل خان کو بری کر دیا۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے وکلا نے دلائل دیے۔ ڈان نیوز کے مطابق دوران سماعت سرکاری وکیل امجد رفیق نے عدالت کو بتایا کہ ‘یہ عام دھماکا نہیں ٹارگٹڈ بم دھماکا تھا، 3 افراد گاڑی میں آئے تھے جن میں سے ایک بس میں داخل ہوا اور دیگر 2 واپس چلے گئے تھے اور جب گاڑی واپس چلی گئی تو بس میں دھماکا ہو گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب گاڑی کا پتہ لگ گیا تھا تو 11 ماہ تک کرائے پر گاڑی لینے والے کا نام سامنے کیوں نہیں آیا، اگر رینٹ اے کار کی رسید اصلی تھی تو پولیس کو پہلے دن سے پتہ تھا کہ کار کس نے لی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اگر دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونما ہوا تو مقدمہ کس کے خلاف درج ہو گا؟ سپریم کورٹ نے بتا دیا

جسٹس سردار طارق محمود نے سوال کیا کہ ‘پولیس کو نام پتہ تھا تو ملزم کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 11 ماہ تک ملزم کی تلاش جاری رہی۔ عدالت عظمیٰ کے جج نے استفسار کیا کہ ملزم کا نام تو 11 ماہ تک ریکارڈ پر آیا ہی نہیں پھر آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کی اس کی تلاش جاری تھی؟

سرکاری وکیل امجد رفیق نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں 20 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، یہ ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے لوگ تھے جس کی وجہ سے اس کیس کو عام کیس کی طرح نہ دیکھا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے بہت بڑا بیان دیا ہے کہ اس کیس کو عام کیس کی طرح نہ پرکھیں، آپ سرکار کی طرف سے ہیں حکومت قانون میں تبدیلی کرے تو ہم اس کے مطابق دیکھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو قانون موجود ہے وہ سب کے لیے برابر ہے، ہم نے سب کے لیے اسی قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں، اگر آپ کسی کے لیے مخصوص قانون چاہتے ہیں تو قانون سازی کروائیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 20 قیمتی جانیں چلی گئیں پھر بھی سرکار نے اچھا کیس نہیں بنایا، ان لوگوں کی قوم کے لیے قربانیاں ہیں اور قوم نے ان کے لیے یہ کیس بنایا ہے کہ 11 ماہ بعد شناخت پریڈ لا رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سپریم کورٹ کے بنائے گئے ڈیم فنڈ میں کتنی رقم جمع ہو چکی ہے؟

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا 11 ماہ بعد کسی کی شکل یاد رہتی ہے، 2 پولیس اہلکاروں کو گواہ بنا دیا گیا کیونکہ وردی میں حکم سے انکار نہیں کر سکتے، اتنے بڑے بازار میں کیا اور کوئی گواہ نہیں ملا اور ان گواہوں کی بھی گواہی چار پانچ ماہ بعد لے کر ضمنی کے شروع میں ڈال دی گئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ہم نے حلف اٹھایا ہے، قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں، ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو شہادت ہونی چاہیے۔

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے کیس میں اتنی کمزور شہادت لائی گئی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم عمر عدیل خان کو بری کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ واضح رہے کہ 2007 میں راولپنڈی بس دھماکے کے ملزم عمر عدیل خان پر خودکش بمبار کی معاونت کا الزام تھا، واقعے میں 20 افراد شہید اور 36 زخمی ہو گئے تھے۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم عمر عدیل خان کو 20 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

Facebook Comments