خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں طالبات کا پردہ کرنا لازمی قرار

16ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (پشاور) خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نے ضلع ہری پور کے بعد ضلع پشاور کے تمام سرکاری اسکولوں میں بھی طالبات کے عبایا اور گاؤن پہننے کو لازمی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی مشیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ ہری پور اور پشاور کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔ پشاور میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) برائے خواتین ثمینہ غنی کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ پشاور میں خواتین کے تمام سرکاری مڈل، ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکولز کے سربراہان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اسکول کے اوقات کار پر سختی سے عمل کریں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ سعودی عرب میں خواتین نے برقع اتارنا شروع کر دیا! سرِ عام جسم کی نمائش جاری

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام طالبات خود کو عبایا، گاؤن یا چادر کے ذریعے مکمل ڈھانپے، جس کا مقصد طالبات کو کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس سلسے میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے پر فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ بعد ازاں ای ڈی او نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشیرِ تعلیم کی ہدایات پر پشاور کے اسکولوں میں طالبات کیلئے پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھارت میں بھی حجاب پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مشیرِ تعلیم ضیا اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں طالبات کیلئے پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پرائمری، مڈل ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی خواتین سربراہان کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے طالبات کو جنسی ہراساں کئے جانے سے بچانے کیلئے محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ نیا قدم اٹھایا گیا ہے۔

Facebook Comments