فیصل آباد میں معصوم طالبہ سے زیادتی اور قتل کا کیس! جج نے بہترین انصاف کر دیا

19مارچ2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (فیصل آباد) فیصل آباد کی سیشن کورٹ نے کمسن بچی سے زیادتی اور اسکے بعد قتل کے کیس میں ملوث شخص کو تین بار سزائے موت اور 35 لاکھ جرمانےکی سزا کا حکم جاری کر دیا۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ فیصل آباد کی سیشن کورٹ میں 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں جج نے گذشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ چھتیس سالہ خاتون پر 9 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام

ایڈیشنل سیشن جج انعام الہیٰ نے مذکورہ کیس کے فیصلے مہں کہا کہ فریقین کے دلائل مکمل ہونے اور ملزم کے اعتراف کے بعد ملزم پر جرم ثابت ہوگیا، عدالت نے فیصلہ جاری کیا ہے کہ ملزم عبدالرزاق کو 3 بار سزائے موت دی جائے جبکہ اُسے 35 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ امریکی فضائیہ کے ایک افسر نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ! امریکی سینیٹر مارتھا میکسلی

خیال رہے کہ فیصل آباد کے علاقے مظفر کالونی کے رہائشی عبدالرزاق نے گذشتہ برس 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور بعد ازاں اُسے قتل کردیا تھا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کو بیرونِ ملک فرار ہوتے ہوئے لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔

دودھ فروش ملزم نے دوران حراست اپنے جرم کا اعتراف کیا اور جج کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ اُس نے دوسری جماعت کی طالبہ کو اپنی خواہش پوری ہونے کے بعد اس لیے قتل کیا کیونکہ بچی نے اُسے پہچان لیا تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کیلئے لاہور آنے والی لڑکی اجتماعی زیادتی کا شکار

یاد رہے کہ کمسن طالبہ کی بوری بند لاش فیکٹری سے ملی تھی جس کے بعد پولیس نے اہل خانہ کا بیان ریکارڈ کر کے تفتیش کا آغاز کیا، مقتولہ کے والد لیاقت کا کہنا تھا کہ بچی کو دودھ لینے بھیجا اُس کے بعد سے وہ گھر واپس نہیں آئی۔

پولیس نے شک کی بنیاد پر دودھ فروش اور اُس کے ایک اور ساتھی کو حراست میں لے کر جب پوچھ گچھ کی تو دونوں ملزمان مشکوک پائے گئے جس کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کر کے اُن سے تفتیش شروع کی گئی تھی۔

Facebook Comments