آئی جی سندھ کلیم امام نے 19 ماہ کے بچے کی ہلاکت پر معافی مانگ لی

IG Sindg Kaleem Imam
17اپریل2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (کراچی) آئی جی سندھ پولیس کلیم امام نے گذشتہ روز مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بچے کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ آئی جی سندھ پولیس کلیم امام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے معافی مانگتا ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ افسران سے درخواست کی ہے، پولیس کو ٹریننگ کرائی جائے، پوری کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسا کوئی سانحہ نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اس واقعے پرافسوس کرتی ہے، سندھ پولیس رول آف لا فالو کرتی ہے، سندھ پولیس عوام، عدالتوں کو جوابدہ ہیں، کل اورکچھ روز پہلے کے واقعات پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بڑا اسلحہ ختم کردیا ہے، چھوٹے ہتھیاروں سے ٹریننگ کرائیں گے، ڈھائی ہزار سے زیادہ پولیس کےجوان شہید ہوئے، 53 فیصد قتل کی واردتوں میں کمی آئی، موبائل چھیننےکی وارداتوں میں بھی کمی آئی، حال میں ہونے والے واقعات کو ٹریس کیاگیا ہے، 71 دہشت گرد اور 12 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 16 اپریل 2019ء کو شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال یونیورسٹی روڈ پر پولیس کی فائرنگ سے 19 ماہ کا کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا تھا۔

سندھ پولیس کے مطابق دس روز کے دوران پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔

مقتول بچے کے والد کاشف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی روڈ پر رکشے میں جار رہے تھے کہ اسی دوران پولیس کو فائرنگ کرتے دیکھا اور کچھ دیر بعد احسن (انکے بیٹے) کے جسم سے خون نکلنے لگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ خون بہنے کے بعد ہم اُسی رکشے میں بچے کو لے کر اسپتال پہنچے، مگر وہ اُس وقت تک دم توڑ چکا تھا۔

خیال رہے کہ پولیس نے فائرنگ کرنے والے دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

Facebook Comments