کرتارپور راہداری سے متعلق پہلی بار باضابطہ مذاکرات شروع ہو گئے

Kartarpur Corridor Negotiations
14مارچ2019
(فوٹو ایکسپریس)

ویب ڈیسک: (واہگہ) پاکستان اور بھارت کے مابین کرتارپور راہداری سے متعلق پہلے باضابطہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین کرتار پور کوریڈور سے متعلق پہلے باضابطہ مذاکرات واہگہ سرحد سے متصل بھارتی حدود اٹاری میں جاری ہیں،اٹھارہ رکنی پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ و داخلہ، قانون و انصاف اور مذہبی امور کے حکام شامل ہیں جبکہ وفد کی قیادت ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی طرف کرتار پور راہدری کے راستے سکھوں کی آمد ورفت اور اوقات کار سمیت دیگر امور سے متعلق 60 تجاویز پر باریک بینی سے غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے کرتارپور کو قومی ورثہ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،جامع مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر پاکستان اور بھارت کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتار پور بھارتی سرحد سے متصل ضلع نارروال میں واقع ہے،سرحد کے دوسری جانب بھارت کا ضلع گورداس پور واقع ہے جبکہ گوردوارہ کرتار پور سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مقام تصور کیا جاتا ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کا آخری دور گزارا۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کے منصوبے کے تحت کرتارپور میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر ہوگی اور دریائے راوی پر پل بنایا جائے گا،سرحد کے دونوں اطراف راہداری مکمل ہونے کے بعد سکھ زائرین کو ویزے کے بغیر خصوصی اجازت نامے کے تحت گوردوارے پر حاضری کی اجازت ہوگی،پاکستان اس منصوبے پر چالیس فیصد کام مکمل کر چکا ہے۔

Facebook Comments