سانحۂ ساہیوال! متاثرین کے تحریری بیانات جے آئی ٹی میں جمع، درد ناک انکشافات

Sahiwal Incident Survivors Written Statement
09فروری2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) سانحۂ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے محمد خلیل کے آٹھ سالہ بیٹے عمیر خلیل،دوبھائیوں جلیل اور جمیل اور رشتے داروں کے بیانات تحریری طور پر جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر دئیے گئے ہیں۔عمیر خلیل کا کہنا ہے کہ پولیس والے جھوٹ بول رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحۂ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے محمد خلیل کے آٹھ سالہ بیٹے عمیر خلیل جو اس سانحے کا عینی شاہد بھی ہے نے تحریری طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے جس کے مطابق پولیس سراسر جھوٹ بول رہی ہے۔

عمیر خلیل کا کہنا ہے کہ ہم لوگ (پاپا ،ماما،بڑی بہن اریبہ،چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ)صبح آٹھ بجے گھر سے نکلے،ہماری گاڑی قادر آباد پہنچی تو پیچھے سے کسی نے گاڑی پر فائر نگ کی،جس کے بعد گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی،اس کے بعد پولیس کے دو ڈالے تیزی سے ہماری گاڑی کے پاس آ کر رکے اور نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔

عمیر نے بتایا کہ انکل ذیشان کو مارنے کے بعد پولیس نے فائرنگ بند کر دی اور فون پر کسی سے بات کرنے لگے،پاپا نے کہا کہ جو مرضی لے لو لیکن ہمیں مت مارولیکن جوں ہی فون بند ہوا ایک اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی۔

آٹھ سالہ عمیر خلیل نے بتایا کہ فائرنگ سے میرے پاپا، ماما اور بڑی بہن اریبہ جاں بحق ہو گئے،فائرنگ کے دوران پاپا نے منیبہ اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا تھا،پاپا ،ماما اور بڑی بہن کو مارنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دو چھوٹی بہنوں کو گاڑی سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی،اس کے بعد پولیس اہلکار ہم تینوں بہن بھائیوں کو گاڑی میں ڈال کر ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر چلے گئے۔

عمیر خلیل نے بتایا کہ میں اور چھوٹی بہن منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے تڑپ رہے تھے کہ ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا،پھر پولیس والے واپس آئے اور ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اسپتال چھوڑ گئے۔

عمیر نے یہ بھی بتایا کہ ہماری گاڑی کے اندر سے دہشت گردی کا کوئی سامان برآمد نہیں ہوا،پولیس جھوٹ بول رہی ہے،انہوں نے میرے نہتے ماں باپ کو مار دیا۔

اس کے علاوہ مقتول محمد خلیل کے دو نوں بھائیوں جلیل اور جمیل جبکہ رشتہ داروں سعید اور افضال کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے،بھائی جلیل نے بتایا کہ میرے مقتول بھائی خلیل کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ساہیوال پولیس اور امدادی عملے کی جانب سے ملی،خلیل کے بچے نہ ملنے کی صورت میں مددگار پولیس 15کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی ،تاہم بہت دیر بعد 1122 کے ذریعے اطلاع ملی کہ بچے اسپتال میں ہیں۔

sahiwal incident umair written statement
سانحۂ ساہیوال کے متاثرین کے تحریری بیانات کی نقل فوٹو بشکریہ ایکسپریس ڈاٹ پی کے
Facebook Comments