عبدالعلیم خان کی مشکلات میں اضافہ! 9روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

Aleem Khan
07فروری2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (لاہور) احتساب عدالت نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عبدالعلیم خان کا 9روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے جبکہ انہیں 15فروری کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

آج احتساب عدالت میں سید نجم الحسن نے عبدالعلیم خان کے خلاف غیر قانونی اثاثہ جات کیس کی سماعت کی،دوران سماعت نیب کے وکیل وارث علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عبدالعلیم خان 2003ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ،اس دوران انہوں نے 900کنال پر مبنی اراضی خریدی،جبکہ اسی دوران انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے کا گھر بھی خریدا،2005ء میں انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر کمپنی بنائی اور بھاری سرمایہ کاری کی،2017ء میں انہوں نے بیرون ملک فلیٹس خریدے،لہٰذا انکے خلاف مزید تفتیش کیلئے انکا 9روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر وارث علی نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عبدالعلیم خان نے انگلینڈ میں ہیکسم انویسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ کمپنی بنائی جس میں 99ہزار 52پاؤنڈز کا حساب نہیں مل سکا،انہوں نے یو اے ای میں آر اینڈ آر انٹرنیشنل ایف زیڈ سی کمپنی بنائی،انہوں نے جمیرا گاؤں،ویلا اورنج لیک،ویلا جمیرا گالف دبئی میں بھی اثاثے بنائے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ نیب نے پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو حراست میں لے لیا

نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ نیب حکام نے جب عبدالعلیم خان سے پوچھا کہ آف شور کمپنیوں کیلئے پیسے کہاں سے آئے تو وہ اسکا تسلی بخش جواب نہ دے سکے،پاکستان میں متعدد سرمایہ کاری کی ،زمین خریدی لیکن پیسے کہاں سے آئے ،اس پر بھی وہ نیب حکام کو مطمئن نہ کر سکے،آف شور کمپنیوں اور آمدن سے زائد اثاثوں پر مکمل شواہد عدالت کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

عبدالعلیم خان کے وکیل نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے 878ملین کے اثاثہ جات ڈکلیئرڈ ہیں،تمام اثاثہ جات قانون کے مطابق ریکارڈ پر موجود ہیں،علیم خان کا سیاست میں آنے کا مقصد حکومتی پیسے سے سب کچھ بنانا نہیں تھا۔

بعد ازاں عبدالعلیم خان نے عدالت سے استدعا کی کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جو بھی کہوں گا حلفاً کہوں گا،عدالتی اجازت ملنے پر علیم خان نیب کے خلاف پھٹ پڑے،انہوں نے کہا کہ 2002ء سے کوئی شکایت نہیں آئی،اختیارات کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا،میرے تمام اثاثہ جات ٹیکس ریکارڈ پر بھی موجود ہیں،پیسے مجھے ورثے میں ملے ہیں،نیب کے پاس جو بھی ریکارڈ ہے وہ ہم نے خود دیا ہے،نیب نے کوئی ریکارڈ یو کے یا یو اے ای سے نہیں منگوایا،نیب نے جب بھی بلایا میں پیش ہوا۔

واضح رہے کہ نیب نے صوبائی وزیر بلدیات عبدالعلیم خان کو آف شور کمپنیوں اور آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر گرفتار کیا،جس پر انہوں نے فوراً استعفیٰ دے دیا،نیب نے چوتھی پیشی پر انہیں گرفتار کیا اور اسی دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا،جس میں انہوں نے لکھا کہ نیب نے مجھے گرفتار کر لیا ہے لہٰذا مہربانی فرما کر میرا استعفیٰ قبول کیجئے۔

چیئرمین نیب نے عبدالعلیم خان کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔

Facebook Comments