امریکہ نے 12 سعودی فوجی طلبہ کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا

Saudi military trainees in US
13جنوری2020
(فوٹو : اے ایف پی)

ویب ڈیسک: (واشنگٹن) امریکہ نے ریاست فلوریڈا میں ایک سعودی افسر کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد انتہا پسندوں سے روابط اور چائلڈ پورنو گرافی کے الزام میں ایک درجن سعودی فوجی طالبعلموں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس دسمبر میں امریکا کے سعودی فوجی تربیتی پروگرام میں شامل محمد الشامرانی نے نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا میں فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں 3 نیوی اہلکار ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے تھے، بعد ازاں حملہ آور بھی پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ جمال خاشقحجی قتل کیس! امریکہ نے 17 سعودی افراد پر پابندیاں لگا دیں

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک درجن سے زائد زیر تربیت اہکار محمد الشامرانی کی مدد کرنے میں ملوث نہیں لیکن کچھ افراد کے انتہا پسندوں تنظیموں سے روابط جبکہ کچھ افراد چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث پائے گئے۔ مذکورہ تحقیقات فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے کیں جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حملے سے قبل کسی نے حملہ آور کے پریشان کن رویے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ سعودی عرب نے بے حیائی کا ایک اور دروازہ کھول دیا

دسمبر کے وسط میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ امریکا میں اس وقت زیر تربیت سعودی فوجی اہلکاروں کے پس منظر کا جائزہ لیا گیا اور فوری خطرے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ وزارت دفاع کے حکام نے حملے کے بعد سعوی عرب کے فوجی طالبعلموں کیلئے عملی تربیت روک دی تھی تاہم کمرہ جماعت میں پڑھانے کا عمل جاری تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ کمسن بچوں کے اغوا اور زیادتی کے مرتکب 2 سعودی نوجوانوں کا عبرت ناک انجام

حملہ کرنے والا 21 سالہ نوجوان سعودی رائل ایئرفورس میں لیفٹیننٹ تھا اور اس کے پاس قانونی طریقے سے خریدی گئی گلاک 9 ایم ایم ہینڈ گن موجود تھی۔ اس نے فائرنگ کرنے سے قبل ٹوئٹر پر اپنا منشور بھی شائع کیا تھا جس میں امریکا کو شیطان کی قوم کہہ کر مذمت بھی کی تھی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایف بی آئی نے محمد الشامرانی کے 2 آئی فونز تک رسائی کیلئے ایپل سے مدد مانگی ہے لیکن کمپنی حکومت کی جانب سے انکرپشن توڑنے کی درخواست پر مزاحمت کر رہی ہے۔ ایپل کا کہنا تھا کہ وہ کلاؤڈ اسٹوریج میں متعلقہ ڈیٹا فراہم کر کے پہلے ہی ادارے کی مدد کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا میں غیر ملکی افواج کے 5 ہزار اہلکار زیر تربیت ہیں جس کے تمام شعبوں میں تقریباً 8 سو 50 سعودی اہلکار بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments