کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنے پر دنیا کا پہلا وزیر اعظم مستعفی ہو گیا

the prime minister has resigned due to lockdown for Corona
27مارچ2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (پرش ٹینا) کورونا وائرس کے پیش نظر ملک میں مسلسل لاک ڈاؤن کرنے پر کوسوو کے وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق کوسوو میں کرونا وائرس پھیلنے اور ملک میں مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وزیراعظم البن کرتی کو اپوزیشن اور اپنی جماعت کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ آج ہونے والے اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم البن کرتی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جسے اراکین نے کثرت رائے سے منظور کیا۔

رپورٹ کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم کرتی کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت کے رکن نے ایوان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں کرونا پھیلنے کا قصور وار قرار دیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کورونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار

بعد ازاں رکن اسمبلی نے قرار داد پیش کی جس کی اپوزیشن اور حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین نے حمایت کی۔ رپورٹ کے مطابق اتحادی جماعتوں کو وزیراعظم کرتی کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات سے اختلاف تھا۔

واضح رہے کہ کرتی نے دو ماہ قبل ہی بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور ابھی وہ معاملات کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس دوران ملک میں کورونا کے کیسز سامنے آ گئے۔ رپورٹ کے مطابق کوسوو میں کورونا کے 70 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد حکومت نے مختلف شہروں کو لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کرونا کی وجہ سے سامنے آنے والی صورت حال کے بعد ملک میں فوری انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، امکان ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہی تبدیلی لائی جائے گی اور پھر کوئی نیا وزیر اعظم منتخب کیا جائے گا۔

Facebook Comments