چین اور بھارت کے درمیان معرکہ آرائی! لداخ میدان جنگ بن گیا

China India Border
26مئی2020
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) چین اور بھارت کے درمیان لداخ کے علاقے میں فوجیں آمنے سامنے آ گئیں، معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا، مودی سرکار کیلئے پریشانی بڑھ گئی۔

بھارتی اور غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی لداخ میں جھیل پینگانگ سو کے قریب دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد چینی فوج نے بھارتی فوجی دستے کو گرفتار کر لیا اور ان کا اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا، تاہم بھارتی فوج کی ہائی کمان کی جانب سے بات چیت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ بھارتی آرمی چیف نے وزیر اعظم مودی کو اس پر بریفنگ دیتے ہوئے اسے شدید جھٹکا قرار دیا۔ دوسری جانب بھارتی فوجی ترجمان نے اپنے فوجیوں کی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا اس طرح کی خبریں شائع کرتا ہے تو اس سے ہمارے قومی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج لداخ میں اپنی نفری میں اضافہ کر رہی ہے اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرکئی مقامات پر خیمے نصب کر دیئے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی فوج نے لداخ کے علاقے گالوان میں ایک سڑک اور پل کی تعمیر شروع کی جس پر چین نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھارت نے اس اقدام سے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے، چین

واضح رہے کہ 5 اور 9 مئی کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں دونوں طرف سے اسلحہ کے بجائے مکوں اور آہنی سلاخوں کا استعمال کیا گیا تھا جس میں کئی بھارتی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھارتی فوج اوقات سے باہر چینی علاقے میں دراندازی، صورتحال کشیدہ

سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جن میں دونوں افواج کے درمیان تکرار دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ چین نے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دے دی

بھارت کا چین کے ساتھ سرحدی جھگڑے کے ساتھ نیپال کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کے پی اولی نے نیپال کا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا، لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا، جس پر بھارت اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ انہوں نے نیپال میں کورونا وائرس پھیلنے کا ذمہ دار بھی بھارت کو قرار دیا۔

Facebook Comments