کُرتا پاجامہ کیوں پہنا؟ انتہا پسند ہندوؤں کی بزرگ شہری کے ساتھ شرمناک حرکت

Kazim Ahmed
06جولائی2021
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) سیکیولر ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں مسلمان اپنی مرضی کے کپڑے بھی نہیں پہن سکتے، انتہا پسند ہندوؤں نے ایک بزرگ شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور برہنہ کر کے اذیت دیتے رہے۔

جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ نریندرا مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت میں مسلم کشی اور ہندو انتہا پسندی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے، حال ہی میں ایک بزرگ مسلمان پر تشدد کا واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں رونما ہوا جہاں کرتا پاجامہ پہنے بزرگ شہری کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

اترپردیش میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم نے کرتا پاجامہ پہنے ایک بزرگ شہری کو سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور داڑھی بھی نوچ ڈالی۔ متاثرہ شہری کاظم احمد کا کہنا ہے کہ میں نوئیڈا سے علی گڑھ جانے کیلئے بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک گاڑی میرے پاس آ کر رکی اور سوال کیا کہ کہاں جانا ہے اور زبردستی گاڑی میں بٹھایا۔

متاثرہ مسلمان نے بتایا کہ ملزمان نے گاڑی میں سوار کرتے ہی تشدد شروع کر دیا اور داڑھی بھی نوچ ڈالی حتیٰ کہ مسلمانی چیک کرنے کیلئے انہوں نے مجھے برہنہ کر دیا، آنکھ پھوڑنے کی کوشش کی اور پھر نیم مردہ حالت میں پھینک کر فرار ہو گئے۔

کاظم احمد نے کہا کہ پولیس میں شکایت درج کروائی تاہم اس دفعہ بھی بھارتی پولیس اہلکار ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان خاتون پر لاٹھیوں سے حملہ

دوسری جانب پولیس نے مؤقف اپنایا ہے کہ کاظم احمد کے ساتھ تعصب پسندی نہیں بلکہ ڈکیتی کی واردات رونما ہوئی اور کار سوار ان سے 1200 روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ گوشت خریدنے کے جرم میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان خاتون پر بدترین تشدد

پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ بزرگ شہری نے تحریری درخواست مانگی لیکن انہوں نے صرف موبائل نمبر دیا اور چلے گئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھارتی شہر علی گڑھ میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان خاندان پر حملہ

واضح رہے کہ بھارت میں مسلم کشی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے، گذشتہ دنوں ریاست مہاراشٹرا میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم نے کرتا پاجامہ پہننے پر مسلمان نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

Facebook Comments