سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی

26ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (ریاض) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ جمال خاشقجی قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ قتل انکے اقتدار کے دوران ہوا۔

تفصیلات کے مطابق (دی کراؤن پرنس آف سعودی عرب) کے نام سے دستاویزی فلم کے پری ویو میں پی بی ایس کے مارٹن اسمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ یہ میرے اقتدار کے دوران ہوا، میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر انکار کے بعد سعودی حکام نے قتل کی ذمہ داری آپریشن کرنے والے حکام پر ڈال دی تھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ جمال خاشقجی کی لاش کو کس طرح نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا؟ خوفناک انکشاف ہو گیا

عوامی استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف نے خاشقجی کو ملک واپس لانے کا حکم دیا تھا تاہم خاشقجی کے واپسی پر رضامند نہ ہونے پر انکے قتل کا حکم دیا گیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ سابق شاہی مشیر سعود القحطانی نے اسکائپ کے ذریعے قتل کے احکامات دیئے اور آپریشن سے قبل ہِٹ ٹیم کو خاشقجی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔

مارٹن اسمتھ نے جب سعودی ولی عہد سے سوال کیا کہ ان کو معلوم ہوئے بغیر قتل کیسے ہوا تو محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 2 کروڑ لوگ ہیں، ہمارے پاس 30 لاکھ سرکاری ملازمین ہیں۔

مارٹن اسمتھ نے سوال کیا کہ کیا وہ آپ کا جہاز بھی لے سکتے ہیں۔ ولی عہد نے جواب دیا کہ میرے پاس کئی عہدیدار، وزرا ہیں جو معاملات کو دیکھتے ہیں، وہی ذمہ دار ہیں، ان کے پاس اختیار ہے ایسا کرنے کا۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے جون میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ریاض پر جمال خاشقجی قتل کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ سعودی عرب کے 11 مشتبہ افراد کو خفیہ کارروائی کرنے پر ٹرائل پر رکھا گیا تاہم اب تک صرف چند سماعتیں ہوئی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ جمال خاشقحجی قتل کیس۔ امریکہ نے 17سعودی افراد پر پابندیاں لگا دیں

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں سعودی ولی عہد اور دیگر سعودی حکام کے خلاف تحقیقات کرنے کا کہا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ میں کالم نگار تھے جنہیں 2 اکتوبر کو آخری مرتبہ سعودی سفارتخانے میں دیکھا گیا تھا، جہاں وہ اپنی شادی کیلئے ضروری دستاویزات لینے کے لیے آئے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس سے قبل استنبول میں سعودی سفارتخانے میں ہونے والے قتل کے بارے میں عوامی سطح پر کبھی بات نہیں کی تھی۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور دیگر مغربی حکومتوں نے الزام لگایا تھا کہ محمد بن سلمان نے قتل کے احکامات جاری کیے تھے تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ اس میں ولی عہد کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی سطح پر غم و غصہ سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے سعودی ولی عہد کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد سے انہوں نے امریکا اور یورپی ممالک کا کوئی دورہ نہیں کیا۔

Facebook Comments