خالصتان تحریک زور پکڑنے لگی، سپر پاور ملک بھی سکھوں کی حمایت میں آ گیا

Sikh genocide
13جنوری2022
( فوٹو: انٹرنیٹ )

ویب ڈیسک: ( واشنگٹن ) امریکی ریاست نیوجرسی کی سینٹ نے بھارت میں ہونے والی سکھوں کی نسل کشی کے خلاف قرارداد متفقہ طورپرمنظورکرلی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق نیوجرسی کی سینٹ کی جانب سے 1984 کے نفرت انگیز فسادات کو سکھوں کی نسل کشی قراردیا گیا۔بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کے خلاف قرارداد اتفاق رائے کی بنیاد پرمنظورکی گئی۔

قرارداد جنوری 2022 میں سینیٹراسٹیفن ایم سوینی نے پیش کی تھی جس میں 1984 میں سکھوں کے خلاف بے جا تشدد کونسل کشی قراردیا گیا تھا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 1984 میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد نئی دہلی اور بھارت کی مزید 20 سے زیادہ ریاستوں میں سکھوں کو باقاعدہ پلاننگ کرکے نشانہ بنایا گیا۔بھارتی حکومت اورسیکورٹی اہلکاربھی نسل کشی کا حصہ تھے۔ان کی طرف سے سکھ برادری کے قتل عام کی روک تھام کے لیے نہ تو کوئی کوشش کی گئی نہ ہی قانونی کارروائی کی گئی۔

قرارداد کے مطابق بھارت میں 3 روز تک جاری و ساری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تقریباً تیس ہزار سکھوں کو قتل کا نشانہ بنایا گیا۔کچھ کو گھروں میں نظر بند کرکے زندہ جلا دیا گیا تھا۔2015 میں امریکی ریاست کیلی فورنیا کی اسمبلی نے قراردادکی منظوری دی تھی جس میں سکھوں کی نسل کشی اورقتل عام کوتسلیم کرلیا گیاتھا۔

Facebook Comments