مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کر لیا

Narendra Modi
20جون2021
(فوٹو : فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے کشمیریوں کے عزم و استقلال کے سامنے بے بس ہوتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے آل کشمیری پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نریندرا مودی نے ممکنہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے سمیت اہم مسائل کے حل کیلئے جمعرات کے روز تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے وزیر داخلہ اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے مشیر قومی سلامتی اجیت دوال سمیت اہم حکام سے ملاقات کی ہے۔

تیزی سے گرتی ہوئی عوامی مقبولیت کے باعث اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی میں پیش پیش وزیر داخلہ امیت شاہ اب مقبوضہ کشمیر کی بدلتی صورت حال پر سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور گزشتہ روز انہوں نے مشیر قومی سلامتی اور جموں و کشمیر کے گورنر کے ساتھ طویل ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی گاڑی پر حملہ! ایک میجر اور پولیس اہلکار ہلاک

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور فارق عبداللہ کو کانفرنس میں شرکت کیلئے دعوت نامے بھیج دیئے ہیں جس پر دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعت کی میٹنگ طلب کر لی ہے جس میں دعوت نامے کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت ثابت کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس آرٹیکل 370 کی بحالی کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں تعطل کی شکار سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے ہے جس کیلئے مودی سرکار اپنے سابق حلیفوں سے مشاورت کرنا چاہتی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق چین کے بیان نے بھارت کی نیندیں اڑا کے رکھ دیں

خیال رہے کہ اگست 2019ء میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا اور کنٹرول مرکز کے حوالے کر دیا تھا جبکہ کسی مزاحمت سے بچنے کیلئے اپنے حلیفوں سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا تھا جنہیں ایک سال بعد رہائی ملی تھی۔

Facebook Comments