بھارت میں انتہا پسندی عروج پر، داڑھی رکھنے پر مسلمان پولیس افسر کو نوکری سے نکال دیا گیا

Intazaar Ali
22اکتوبر2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) بھارت میں ریاستی سطح پر مسلمانوں سے امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے، مسلمان پولیس افسر کو داڑھی رکھنے پر برطرف کر دیا گیا۔

بھارتی ریاست اترپردیش میں مسلمان پولیس سب انسپکٹر انتظار علی کو داڑھی رکھنے کے جرم میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ اترپردیش کے ضلع باغپت کے ایس پی ابھیشک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس میں داڑھی رکھنے سے پہلے اجازت درکار ہوتی ہے، انتظار علی نے بغیر اجازت کے داڑھی رکھی جس کی وجہ سے اسے نوکری سے نکالا گیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان خاتون پر لاٹھیوں سے حملہ

ابھشیک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولس مینوئل کے مطابق صرف سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے جب کہ دیگر سبھی پولس اہلکاروں کو چہرہ صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔ مسلمان پولیس افسر کا موقف ہے کہ متعدد بار اجازت مانگی لیکن کسی نے جواب تک دینا گوارا نہیں کیا، نومبر 2019 میں بھی درخواست دی تھی جواب نہ ملنے پر داڑھی رکھی تو نوکری سے نکال دیا گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: بھارت: قرنطینہ میں کورونا مریض کی ساتھی مریضہ کیساتھ زیادتی

انتظار علی کا کہنا تھا کہ ’میں 25 سال سے یوپی پولیس میں خدمات سر انجام دے رہا تھا آج تک کسی نے مجھے داڑھی رکھنے سے نہیں روکا تھا۔ سب انسپکٹر نے اعتراف کیا کہ ’بزرگوں نے گزشتہ سال انہیں داڑھی تراشنے کو کہا تھا لیکن انہوں نے داڑھی نہیں تراشی، شروع میں ہلکی داڑھی تھی، لیکن گزشتہ دو سالوں میں داڑھی کو بڑھایا۔

رپورٹ کے مطابق سب انسپکٹر انتظار علی25 سال سے پولیس میں فرائض سر انجام دے رہے تھے وہ 1994 میں بطور کانسٹیبل پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔

Facebook Comments