بھارت میں انسانی اسمگلنگ کے مجرم دندناتے پھر رہے ہیں! حیران کن انکشاف

Human trafficking offenders roaming the streets in India! How many sentences have been done in the last ten years! Amazing discovery
04ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) بھارت میں گذشتہ 10 برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے جرم میں ملوث 429 میں سے صرف 3 کو سزائیں ہوئیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کرنے والے رضاکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معصوم لوگوں کے تحفظ کیلئے ان اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

تفتیش نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق بھارت کے جنوبی بنگال اور آندرا پردیش میں 2008ء سے 2018ء کے عرصے میں 198 انسانی اسمگلنگ کے واقعات درج کئے گئے۔ تنظیم کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے 198 واقعات میں 429 اسمگلروں کے ملوث ہونے کے ثبوت پائے گئے تاہم صرف 3 کے خلاف عدالتی فیصلہ آ سکا۔

سماجی رضاکاروں کے مطابق کمزور قانونی عملداری، پولیس اور عدالت کو درپیش وسائل کی کمی سے محض چند لوگوں کو سزا ملتی ہیں۔

تفتیش تنظیم کے محقق سنگدہ سین کا کہنا ہے کہ اسمگلروں کو قانون کا خوف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلرز ضمانت پر باہر آ جاتے ہیں اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، وہ شاہدین پر اثرانداز ہوتے ہیں، بچ جانے والوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور دوبارہ جرائم کرتے ہیں پھر وہ لوگ آخر کار بری بھی ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے وزارتِ داخلہ کی جانب سے رپورٹ پر تبصرہ دینے سے گریز کیا گیا۔

بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، 2016ء میں 23 ہزار 100 لوگوں کو اسمگلروں کے ہاتھوں سے بچایا گیا۔

حکومت کے مطابق 2016ء میں انسانی اسمگلنگ کے 93 فیصد مقدمات عدالت بھیجے گئے جو ٹرائل کیلئے التوا کا شکار ہیں، جبکہ فردِ جرم عائد ہونے کا تناسب 54 فیصد رہا۔

تفتیش نامی این جی او کے محقق نے بتایا کہ 429 میں سے 31 ملزمان کے خلاف جبری غلامی کی دفعات کے تحت مقدمات ہوئے اور یہ وہ لوگ تھے جو ماضی میں بھی بچوں اور نوعمر لڑکے لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث رہے ہیں۔ محقق کے مطابق کل 64 انسانی اسمگلروں کے خلاف جبری غلامی کے مقدمات درج ہوئے اور وہ تمام ضمانت کے بعد انہی علاقے میں واپس پہنچے جہاں متاثرین آباد یا کام کرتے تھے۔ اس حوالے سے آندراہ پردیش کی انسدادِ انسانی اسمگلنگ تنظیم ہیلپ کے سیکریٹری رام موہن نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی منظم جرم ہے اور پولیس کی تحقیقات ٹھیک طرح سے نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کمزور تفتیش کے باعث ملزمان کو رہائی مل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک اچھی تفتیش کی ضرورت ہے جو متاثرین کے مضبوط بیانات ریکارڈ کر سکے۔

Facebook Comments