بھارتی شہر علی گڑھ میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان خاندان پر حملہ

Extremist Hindus attack Muslim family in Indian city of Aligarh!
16ستمبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (علی گڑھ) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمان خاندان پر حملہ کر دیا۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق گذشتہ روز سہ پہر علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر 10 سے 12 نامعلوم افراد کے گروہ نے ایک ہی خاندان کے چار افراد پر حملہ کر دیا، ان افراد کا تعلق مسلمان گھرانے سے تھا جبکہ حملے کی وجہ اُن کی مذہبی شناخت بتائی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق علی گڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی ساہم خان اپنے خاندان کے ہمراہ کانپور آنند وہار ایکسپریس میں سفر کر رہے تھے، شام ساڑھے چار بجے وہ علی گڑھ موڑ پرٹرین سے اُترے تو اچانک 10 سے 12 افراد کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں ساہم خان کے بھتیجے توفیق خان کے سر پر چوٹ لگی، ان کی اہلیہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ انتہا پسند ہندوؤں کا خوف! سلمان خان نے اپنی فلموں میں عاطف اسلم کو گانے سے روک دیا

متاثرہ افراد کو علاج کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

ساہم خان کے رشتہ دار مقرم علی نے دی ہندو کو بتایا کہ ساہم اکثر اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آتا ہےاور کئی دن ان ہی کے گھر رہتا ہے کیونکہ جواہر لال نہرو میڈیکل کالج میں اس کے بچے زیرِ علاج ہیں۔مقرم نے بتایا کہ ساہم کی بیٹی دماغی مریضہ ہے جبکہ بیٹے کو جگر کا مرض لاحق ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی بولی ووڈ فنکار کو گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکی

مقرم علی نے بتایا کہ توفیق پر نامعلوم افراد نے پتھروں سے حملہ کیا جس سے اس کے سر میں چوٹ آئی ہے جبکہ ساہم اور اس کی بیوی کو مکے مارے گئے، اس دوران ساہم کی بیٹی پلیٹ فارم پر بے ہوش ہو گئی۔

مقرم علی نے مزید بتایا کہ ساہم کے خاندان پر حملہ کرنے والا 10 سے 12 افراد کا گروہ اس ٹرین میں سفر نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ کہیں باہر سےآئے تھےجبکہ متاثرہ خاندان پر حملہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی عورتیں برقعے میں ملبوس تھیں۔

ایس ایچ او یشپال سنگھ کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اُن کی تلاش جاری ہے۔

Facebook Comments