تجارتی پابندیوں کے باوجود مہاتیر محمد کا بھارت کی غلط پالیسیوں کیخلاف بولنے کا فیصلہ

Mahathir bin Mohamad
14جنوری2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (کوالالمپور) ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ملائیشیا کو سفارتی صف کے بعد پام آئل کی درآمد پر بھارت کی نئی پابندیوں سے متعلق تشویش ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ چاہے ان کے ملک کو مالی معاملات کا سامنا کرنا پڑے لیکن وہ غلط چیزوں کے خلاف بولنا جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے خریدار بھارت نے گذشتہ ہفتے قواعد کو تبدیل کیا جو تاجروں کے مطابق ملائیشیا سے بہتر پام آئل کی درآمد پر موثر پابندی سے متعلق ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مہاتیر محمد نے بھارت کے متنازعہ شہریت بل کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں

بھارت کی جانب سے یہ اقدام مہاتیر محمد کی جانب سے بھارت کے نئے متنازع شہریت قانون پر تنقید کے جواب میں سامنے آیا۔ بلاخوف و خطر بولنے والے 94 سالہ مہاتیر محمد نے حال ہی میں سعودی عرب اور بھارت سے تعلقات میں تھوڑی سی تلخی پیدا کی تھی کیونکہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بھارت پر کشمیر پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ چونکہ ملائیشین پام ریفائنرز کو بڑے پیمانے پر کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے مہاتیر محمد کہتے ہیں کہ ان کی حکومت اس کا حل نکال لے گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے! ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں، مہاتیر محمد

مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ درحقیقت ہمیں تشویش ہے کیونکہ ہم بھارت کو بہت زیادہ پام آئل فروخت کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہمیں صاف گوئی کی ضرورت ہے تاکہ اگر کچھ غلط ہو رہا ہے تو ہمیں اس بارے میں کہنا ہوگا۔

صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم غلط چیزوں کی اجازت دیں گے اور صرف رقم کے بارے میں سوچیں گے تو میرے خیال سے ہماری طرف سے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے بہت سی غلط چیزیں ہوں گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ڈاکٹر مہاتیر محمد کو تاریخی الفاظ میں خراجِ تحسین

دوسری جانب خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ بھارتی حکومت نے پیر کو باضابطہ طور پر تاجروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملائیشین پام آئل سے دور رہیں۔ بھارتی تاجر ملائیشین قیمتوں کے مقابلے میں 10 ڈالر ٹن کے پریمیم پر انڈونیشن خام پام آئل خرید رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ پام کی پابندیاں کسی مخصوص ملک کیلئے نہیں لیکن کسی بھی تجارت کیلئے کوئی بھی دو ممالک کے درمیان تعلقات کی حیثیت ایسی ہے جس پر کاروبار انحصار کرتا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ تجارت پاس رکھو، کشمیریوں کی حمایت نہیں چھوڑ سکتے، ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد

بھارتی تاجروں کا کہنا ہے کہ 2019ء میں 44 لاکھ ٹنز خریداری کے ساتھ بھارت، ملائیشیا کے پام آئل کا سب سے بڑا خریدار تھا لیکن 2020ء میں اگر تعلقات بہتر نہ ہوئے تو یہ خریداری 10 لاکھ ٹنز سے نیچے گر سکتی ہے۔

دوسری جانب نقصانات کے ازالے سے متعلق ملائیشین حکام کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان، فلپائنز، میانمار، ویتنام، ایتھوپیا، سعودی عرب، مصر، الجیریا، اردن کو زیادہ آئل فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم سب سے بڑے خریدار کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں اور اسی لیے ملائیشن ٹریڈز یونین کانگریس نے دونوں ممالک پر بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ علاوہ ازیں ملائیشیا کے حکومتی ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی حمایت یافتہ وزارت پرائمری انڈسٹری مذکورہ معاملے پر بھارتی ہم منصب سے رابطے میں ہے اور معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مذکورہ ذرائع نے میڈیا میں اپنا نام لینے سے گریز کیا جبکہ اس معاملے پر ان وزارتوں کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پاک آرمی کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

خیال رہے کہ ملائیشیا، انڈونیشیا کے بعد پام آئل پیدا اور برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

Facebook Comments