سعودی عرب میں اقامہ کی جگہ کیا متعارف کروا دیا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

Riyadh City
13مئی2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (ریاض) سعودی عرب میں اقامہ کی جگہ گرین کارڈ متعارف کرا دیا گیا ہے، گرین کارڈ کے حامل افراد سعودی عرب میں کاروبار تو کر سکیں گے لیکن انہیں سعودی شہریت نہیں مل سکے گی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں معیشت کو مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے، یہ نیا پروگرام کفیل کے نظام کو ختم کر دے گا اور مملکت میں مقیم افراد کو امتیازی خصوصیات اور زیادہ آزادی فراہم کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق منفرد اقامہ پروگرام دائمی اور عارضی دو اقسام کا ہو گا، عارضی اقامہ مخصوص فیس ادا کر کے حاصل کیا جاسکے گا، منفرد اقامہ پروگرام کے تحت مملکت میں رہائش پذیر تارکین وطن کو سعودی عرب میں بعض اضافی مراعات حاصل ہوں گی۔

تارکین وطن محدود پیمانے پر سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکیں گے، اس کے علاوہ منفرد اقامہ کے حامل غیر ملکی کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے، رشتے داروں کو ملاقات کیلئے بلانے، مزدور منگوانے، جائیداد بنانے، نقل و حمل کے وسائل کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔

دائمی اقامہ غیر معینہ مدت کیلئے ہو گا یا قابل تجدید ہو گا، منفرد اقامہ کے حصول کیلئے امیدوار کیلئے وضع کردہ شرائط میں کارآمد پاسپورٹ، مالی استحکام اور عمر کی کم سے کم حد 21 سال شامل ہے۔ علاوہ ازیں امیدوار سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اقامہ حاصل کر چکا ہو، حکومتی ریکارڈ میں کسی قسم کے جرم میں ملوث نہ ہو اور متعدی امراض سے محفوظ ہونے کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی رکھتا ہو۔

واضح رہے کہ اعلان کردہ معلومات میں منفرد اقامہ حاصل کرنے کے اخراجات یا مطلوبہ مالی قدرت کے حوالے سے جامع تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ماہرین معیشت کے نزدیک منفرد اقامہ پروگرام کے نفاذ سے غیر ملکیوں کی جانب سے مملکت سے باہر بھیجی جانے والی رقوم میں کمی آئے گی اور سعودی معیشت کو سالانہ 10 ارب ڈالرز حاصل ہوں گے۔

Facebook Comments