بھارت نے پاکستان سے فضائی حدود کھولنے کے لیے رابطہ کر لیا

Aero Plane
11جولائی2019
(فوٹو بزنس ٹوڈے)

ویب ڈیسک: (اسلام آباد) سینیٹر مشاہد اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن (ہوا بازی) کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان اور سول ایوی ایشن کے حکام شریک ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن کا کہنا تھا کہ بھارت نے فضائی حدود کھولنے کے لیے رابطہ کیا ہے، کشیدگی کے باعث بھارتی جہازوں کے لیے فضائی حدود تاحال بند ہے کیونکہ بھارت کے لڑاکا طیارے ایئر بیسز پر موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کو جواب دیا ہے کہ ایئر بیس کلیئر اورجنگی طیارے ہٹانے تک فضائی حدود نہیں کھولی جائے گی۔ اجلاس میں اسلام آباد ایئرپورٹ مالی بےضابطگیوں کی تحقیقات کے حوالے سے سول ایوی ایشن کے حکام نے رپورٹ پیش کی جس پر کمیٹی اراکین نے بحث کی۔

ہوا بازی کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ مالی بےضابطگیوں کی 2 بار تحقیقات کمیشن نے کی ہیں، ایف آئی اے کی رپورٹ میں مالی بےضابطگیوں کی تصدیق نہیں ہوسکی کیونکہ اُس میں خامیوں کی تکنیکی نشاندہی کی گئی۔ قائمہ کمیٹی کے اراکین نے سول ایوی ایشن کی بریفنگ کو مسترد کردیا جبکہ چیئرمین سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ ایک رپورٹ میں مالی کرپشن کی نشاندہی کی گئی تو دوسری میں کہا گیا کچھ نہیں ہوا، سول ایوی ایشن کی جانب سے موصول جواب تسلی بخش نہیں ہے۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کے بیان میں بڑا تضاد ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ہوا بازی نے کمیٹی کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے کیونکہ قانون کے آگے کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ معاملے کی خود تحقیقات کررہا ہوں، ابھی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ تعمیرمیں سول ایوی ایشن کے افسران بھی قصور وار ہیں۔

بھارتی وزیر ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری نے کہا رواں برس 26 فروری سے فضائی حدود کی بندش ہمسایہ ملک کا یک طرفہ فیصلہ ہے اور اس کا خاتمہ اسلام آباد کی مرضی پر ہی منحصر ہے۔ بھارتی ائیرلائنز کو پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے سبب 549 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔

بھارتی وزیر ہوابازی ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق نجی فضائی کمپنی سپائس جیٹ کو 20 جون تک30.73 کروڑ، انڈی گو کو 25 مئی تک 25.1 کروڑ، گوائیر فضائی کمپنی کو 20 جون تک 2.1 کروڑ اور ائیر انڈیا کو 2 جولائی تک 491 کروڑ کا خسارہ ہو چکا ہے۔

پاکستان نے رواں برس 26 فروری کو بھارتی ائیر فورس کے طیاروں کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بند کر دیا تھا، جس کے بعد سے اب تک بھارتی کمرشل ائیرلائنز کیلئے شمالی علاقوں سے گزرنے والے 11 روٹس میں سے صرف 2 کھولے گئے ہیں۔

ان روٹس کی بندش کے سبب بھارت کے مشرق سے مغرب جانے والی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں، خصوصا بھارتی شمالی علاقوں میں واقع ائیر پورٹس سے جانے والی فضائی ٹریفک پر اس پابندی کا خاصا برا اثر پڑا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس پابندی کے سبب نہ صرف پروازوں کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے بلکہ اضافی ایندھن کی قیمتیں برداشت کرنا بھی فضائی کمپنیوں کیلئے خسارے کا سبب بنا ہے۔

یاد رہے گزشتہ ماہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کیلئے پاکستان سے روٹ فراہم کرنے کی خصوصی درخواست کی تھی، جسے پاکستانی حکومت نے منظور بھی کر لیا تھا تاہم بھارتی وزیراعظم نے روٹ ملنے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعد ازاں عمان اور ایران کے طویل روٹ پر سفر کرنا ہی پسند کیا تھا۔

Facebook Comments