ہندو لڑکی نے دوستی کا حق ادا کر دیا

Hindu Girl Saved A Muslim Family
11جون2019
(فوٹو بھارتی میڈیا)

ویب ڈیسک: (علی گڑھ) بھارت میں ہندو لڑکی پوجا چوہان نے اپنی مسلمان سہیلی اور اس کے اہل خانہ کو انتہا پسند ہندوؤں کے قاتلانہ حملے سے بچا لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گذشتہ ہفتے علی گڑھ میں ڈھائی سالہ ہندو بچی کے قتل کے بعد سے اب تک حالات نہایت کشیدہ ہیں، ہندو برادری نے بچی کے بہیمانہ قتل کا الزام 2 مسلمان گھرانوں پر لگایا جن سے لین دین کا معاملے پر اختلافات پیچیدہ ہو گئے تھے۔ ہندو انتہا پسندوں نے اس آپسی لین دین کے واقعے کو مسلم کش فسادات کیلئے استعمال کیا اور علی گڑھ سے ایک گاڑی میں گزرنے والے مسلم گھرانے پر لوہے کی راڈوں، ڈنڈوں اور تیز دھار آلات سے حملہ کردیا۔ مشتعل ہجوم نے گاڑی میں موجود مسلمان لڑکی کے حجاب کو اتارنے کی کوشش کی اور اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ گاڑی کے شیشے اور دروازے توڑ دیئے، اسی اثناء میں مسلم لڑکی کی ہندو سہیلی نے ہجوم کے آگے ڈھال بن کر اہل خانہ کی جان بچائی۔

پوجا چوہان نامی 24 سالہ ہندو لڑکی بھی مسلم گھرانے کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھی، اسی نے اپنی مسلم سہیلی کو مشتعل ہجوم کے چنگل سے آزاد کروایا تھا اور ہجوم کو منتشر کرنے میں بہادری کا مظاہرہ کیا۔

مسلم گھرانے کے سربراہ شفیع محمد عباسی نے زخمی حالت میں میڈیا کو بتایا کہ پوجا کے گھر والوں اور ان کے گھر والوں کے درمیان 34 سال سے رفاقت ہے اور وہ پوجا کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے ہیں اور آج بھی ایک شادی کی تقریب میں جانے کیلئے پوجا ہمارے ساتھ جا رہی تھی۔

Facebook Comments