کیا قدرتی طوفان کو جوہری بم سے روکا یا ختم کیا جا سکتا ہے؟

Donald Trump
26اگست2019
(فوٹو اسکرین شاٹ)

ویب ڈیسک: (واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں حال ہی میں یورپی ملک ڈنمارک کے ماتحت آزاد ریاست کا درجہ رکھنے والے جزیرے نما ملک ’گرین لینڈ‘ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اب وہیں انہوں نے قدرتی طوفانوں کو بھی طاقت کے زور پر روکنے کی خواہش کا اظہار کرکے سب کو حیران کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ امریکا کو نقصان پہنچانے والے سمندری طوفانوں کو جوہری بم سے ختم کردیا جائے۔

ڈان نیوز کے مطابق امریکی صدر نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران امریکی ہوم سیکیورٹی اور دفاع کے ماہرین سے تجویز مانگی کہ کیا امریکا کی جانب آنے والے سمندری طوفانوں کو جوہری بم سے روکا جا سکتا ہے؟

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: امریکی ریاست لوزیانا کےگورنر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل کے موزے پہن کر انکا استقبال کیا

امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہریکین سمندری طوفان سمیت قدرتی آفات پر بریفنگ دی جا رہی تھی کہ انہوں نے سب کو حیران کردینے والا سوال کر ڈالا۔

ویب سائٹ نے اجلاس میں موجود اپنے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی اور داخلہ سیکیورٹی ماہرین سے سوال کیا کہ قدرتی طوفان کو جوہری بم سے روکا یا ختم کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر ایسا کیا جائے تو کیا ہوگا؟

ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طوفان کو جوہری بم سے روکنے کے سوال پر اجلاس میں شامل تمام ماہرین اور اعلیٰ عہدیدار حیران رہ گئے اور انہوں نے چند منٹ کی خاموشی کے بعد صدر کو بتایا کہ وہ ان کی تجویز پر سوچیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دوران اجلاس کہا کہ ہریکین طوفان امریکا کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں اور اگر انہیں امریکی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی جوہری بم سے ختم یا روکا جائے تو اس کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں؟

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہی تجویز صدر منتخب ہونے کے ایک سال بعد 2017 میں بھی دی تھی اور ماہرین سے پوچھا تھا کہ قدرتی طوفانوں کو نیوکلیئر بم یا دیگر ہتھیاروں سے روکا جا سکتا ہے؟ دوسری جانب خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قدرتی طوفان کو روکنے یا ختم کرنے کے لیے ان پر جوہری بم گرانے کا آئیڈیا نیا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل بھی امریکی حکومت ایسی تجویز دے چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1950 کی دہائی میں امریکی حکومت کے ایک سائنسدان نے صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور کے دور حکومت میں ایسی ہی تجویز دی تھی۔

Facebook Comments