خاتون طلاق لینے عدالت پہنچ گئی! وجہ انتہائی دلچسپ

Weird News
13جنوری2020
(ڈھاکہ لائیو 24)

ویب ڈیسک: (بہار) بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون نے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق زندگی نہ گزارنے والے اپنے شوہر سے طلاق لینے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا۔

تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق طلاق کیلئے دائر اپنی درخواست میں سونی دیوی نے دعویٰ کیا کہ ان کے 23 سالہ شوہر منیش رام باقاعدگی سے نہ تو نہاتے ہیں اور نہ ہی شیو کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے دانت بھی صاف نہیں کرتے جس کے باعث ان کے پاس سے بدبو آتی ہے۔ اسٹیٹ ویمن کمیشن (ایس ڈبلیو سی) نے سونی دیوی کی درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے ان کے شوہر کو 2 ماہ کا وقت دیا ہے تاکہ وہ اپنی عادات کو تبدیل کر لیں ورنہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ اماراتی خاتون نے شوہر کو ایسا کونسا سرپرائز دیا؟ کہ نوبت طلاق تک پہنچ گئی

اس حوالے سے ایس ڈبلیو سی کی رکن پرتیما سنہا کا کہنا تھا کہ 20 سالہ درخواست گزار نے عدالت سے رجوع کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جن وجوہات کی بنا پر وہ طلاق لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اس پر فوری فیصلہ نہیں لیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سونی دیوی نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ 2017ء میں ان کی شادی منیش رام سے ہوئی جو پیشے سے ایک پلمبر ہے۔ خاتون نے اپنے شوہر پر الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کے پاس سے بدبو آتی ہے کیونکہ وہ لگاتار 10 دنوں تک نہ تو دانت صاف کرتے ہیں، نہ شیو بناتے ہیں اور نہ ہی نہاتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ شوہر کا انتہائی اطاعت گزار ہونا وبالِ جان بن گیا

ایس ڈبلیو سی کی کارکن کے مطابق سونی دیوی اپنے شوہر سے علیحدگی کے فیصلے پر مضبوطی سے قائم ہیں۔

سونی دیوی کا کہنا تھا کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی، میں مزید ذلت برداشت نہیں کروں گی، برائے مہربانی اس شخص سے میری جان چھڑوا دی جائے، اس نے میری زندگی تباہ کر دی ہے۔

دوسری جانب سونی دیوی کے شوہر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدگی نہیں چاہتے اور اس کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بیوی کا اعتماد جیت سکیں۔

Facebook Comments