دنیا کا مہنگا ترین تربوز جسے کھایا نہیں جا سکتا

The most expensive watermelon in the world that cannot be eaten
25جون2020
Photo: lingofacts.com

ویب ڈیسک: (ٹوکیو) جاپانی قصبے تاکاماتسو کے کاشتکاروں نے اپنے علاقے کو مشہور بنانے کےلیے آج سے تقریباً 50 سال پہلے وہاں عجیب و غریب تربوز اُگانے شروع کیے جو عام تربوزوں کی طرح گول نہیں بلکہ چوکور ہوتے ہیں۔.

آج یہ تربوز نہ صرف جاپان کی شناخت بن چکے ہیں بلکہ اتنے مہنگے ہیں کہ ایسے ایک تربوز کی قیمت 100 ڈالر (16 ہزار پاکستانی روپے) سے شروع ہو کر 1000 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) یا اس سے بھی زیادہ جا پہنچتی ہے۔ اس کے باوجود، ان تربوزوں کو ڈرائنگ روم میں سجایا تو جا سکتا ہے لیکن کھایا نہیں جا سکتا۔

آج ان کی کاشت صرف تاکاماتسو تک محدود نہیں بلکہ جاپان کے مختلف علاقوں میں انہیں اگایا جا رہا ہے اور آن لائن فروخت بھی کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان کی کاشت قدرتی طریقے پر ہی کی جاتی ہے مگر یہ چھلکے سے لے کر اندرونی حصوں تک بہت سخت اور بدذائقہ ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت کھایا نہیں جا سکتا۔

البتہ، ان ’’چوکور تربوزوں‘‘ کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ان تربوزوں کا مقصد ہی سجاوٹ اور آرائش ہے جبکہ کھانے پینے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لہذا وہ اندر سے ان کے سخت ہونے یا کھانے کے قابل نہ ہونے کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔

Facebook Comments