مردوں کو زندہ کرنے کے تجربات کرنے والا سائنسدان جس نے مردہ کتے زندہ کردیے تھے

Scientist
13جولائی2022
( فوٹو: فائل )

ویب ڈیسک: ( اردو گرام آنلائن ) موت ایک اٹل حقیقت ہے، اللہ کا فیصلہ ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن حضرتِ انسان مدتوں سے موت پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے، کبھی یہ آبِ حیات ڈھونڈتا ہے تو کبھی سائنسی طریقوں سے موت پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن 1930 کی دہائی میں ایک امریکی سائنسدان ایسا بھی گزرا ہے جس نے سائنس کی مدد سے مردہ کتوں کو زندہ کر دکھایا تھا۔

موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے کے حوالے سے کام کرنے والے سائنسدان کا نام ڈاکٹر رابرٹ ای کورنش تھا جو سنہ 1903 میں امریکی شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوا، یہ انتہائی فطین بچہ تھا جس نے صرف 18 برس کی عمر میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے گریجوایشن اور 22 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی، اسے 21 سال کی عمر میں ہی بطور ڈاکٹر پریکٹس کی اجازت مل گئی تھی۔ یہ شروع سے ہی مختلف قسم کی تحقیقاتی پراجیکٹس میں شامل رہا تاہم سنہ 1932 میں رابرٹ ای کورنش کو مردوں کو زندہ کرنے میں دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے اس پر تجربات شروع کردیے۔ اس نے حال ہی میں ہارٹ اٹیک، بجلی لگنے یا دیگر وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کو زندہ کرنے کا تجربہ کیا، اس تجربے کیلئے وہ مردے کو سی سا سے باندھ دیتا اور اس کے جسم میں ایڈرینالائن اور ہیپارین کے انجیکشن لگاتا اور خون کو پتلا کرنے اور اس کے بہاؤ کو بحال کرنے کیلئے سی سا پر ان کو تیزی سے ہلاتا۔ کورنش کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ کسی بھی انسان کو زندہ نہیں کرپایا جس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جانوروں پر یہ تجربہ کرے گا اور اس کے بعد انسانوں کی طرف آئے گا۔

Facebook Comments