لوٹی ہوئی رقم بھی واپس کی اور عطیہ بھی دے ڈالا، دلچسپ قصہ

Bilquis edhi
20اپریل2022
( فوٹو: فائل )

ویب ڈیسک: ( اردو گرام آنلائن ) بلقیس ایدھی کی مختصر علالت کے بعد انتقال اور خاموشی کے ساتھ ان کے جنازے سے ایسا محسوس ہوا کہ شائد یہ قوم اپنے محسنوں کو ان کے احسانات کو بھولنے میں زيادہ وقت نہیں لگاتی ہے۔ مگر اس کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح سے بلقیس ایدھی اور عبدالستار ایدھی کے حوالے سے مختلف واقعات اور ان کے احسانات کے سبب دنیا میں آج کامیاب ہونے والے افراد کے اظہار تشکر نے ان کو مرنے کے بعد بھی لوگوں کی یاد سے محو نہیں ہونے دیا-

ایسا ہی ایک واقعہ سوشل میڈیا کے حوالے سے نظروں سے گزرا جس کے مطابق یہ واقعہ بلقیس ایدھی نے سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایک بار وہ عبدا الستار ایدھی کے ساتھ کسی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے سکھر جا رہے تھے- رات کی تاریکی میں جب ان کی گاڑی کچے کے علاقے میں پہنچی تو کچھ ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کا راستہ روک لیا اور اسلحے کے زور پر گاڑی کو کچے کے علاقے میں اتار لیا جہاں پر پہلے سے ہی گاڑیاں موجود تھیں جن کو ڈاکو لوٹ رہے تھے۔ ایدھی صاحب کے ڈرائيور سمیت ان کو بھی ان ڈاکوؤں نے لوٹنا شروع کر دیا-

اسی دوران ایک ڈاکو کی نظر ایدھی صاحب پر پڑی اور اس نے ان کو پہچان لیا اسی دوران اس نے دوسرے ڈاکوؤں کو ایک جانب بلایا اور ان کو بتایا کہ یہ عبدالستار ایدھی اور ان کی بیوی بلقیس ایدھی ہیں- یہ جاننے کے بعد تمام ڈاکوؤں کا رویہ یک دم تبدیل ہو گیا اور انہوں نے تمام گاڑيوں سے لوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا اور ان کو جانے کی اجازت دے دی- مگر اس کے ساتھ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اس ڈاکوؤں کے سردار نے ایدھی صاحب کو اپنی جانب سے بیس لاکھ روپے کا چندہ بھی جمع کروایا۔ ایدھی صاحب نے جب اس رقم کو لینے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا تو اس ڈاکو نے جو جملے بولے وہ یادگار تھے-

اس ڈاکو کا کہنا تھا کہ جب پولیس مقابلے میں ہم مارے جاتے ہیں تو اس وقت میں ہماری لاش اٹھانے کے لیے ہمارے سگے رشتے دار تک تیار نہیں ہوتے ہیں- مگر اس وقت واحد ایدھی کے رضا کار ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کی لاوارث لاشوں کو اٹھاتے ہیں بلکہ ان کے کفن دفن کا انتظام بھی کرتے ہیں-

Facebook Comments