فرعون کے بال اور ناخن آج بھی کیوں بڑھتے ہیں؟ اس کی لاش آج بھی کیسے اتنی تازہ ہے

Pharaoh
05اگست2022
( فوٹو: انٹرنیٹ )

ویب ڈیسک: ( اردو گرام آنلائن ) فرعون کی فرعونیت سے ہر کوئی واقف ہے جس نے ایک ظالم بادشاہ بن کر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ خداوندی کا دعویٰ کرنے والے مصری فرعون دوم (Ramesses II) کی لاش آج نشانِ عبرت کے طور پر میوزیم میں رکھی گئی ہے۔

فرعون کی لاش سے متعلق بہت سی ایسے راز موجود ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کو نہیں پتہ۔ آج ہم آپ کو فرعون کے غرق ہونے اور اس کی لاش کے حوالے سے حیران کن حقائق بتائیں گے جو آپ کے لیے نئی معلومات ہوگی۔

سنہ 1891 سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا کہ خدائی کا دعویٰ کرنے والے فرعونوں کی لاشوں کا کیا ہوا تھا، اور ان کی باقیات کہاں ہیں یا کہیں ہیں بھی موجود یا نہیں۔ تمام آسمانی کتابوں میں اس واقعے کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے کہ اللہ کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ سلام اور بنی اسرائیل کی قوم کا پیچھا کرتا ہوا فرعون سمندر میں پانی میں اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا تھا۔ جبکہ اللہ کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ سلام اور ان کی قوم کو پانی کے درمیان سے راستہ بنا کر رب تعالیٰ نے خود دیا تھا۔ لیکن فرعون کی لاش کا کیا ہوا تھا یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔

لیکن قرآن مجید میں ظالم فرعون کے انجام سے متعلق عجیب بات موجود ہے جس کی کسی کو سمجھ نہ تھی۔ قرآن کریم کی سورۃ یونس کی آیت نمبر 92 میں اللہ نے ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سو آج ہم تیری ہی لاش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لیے نشانِ عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ یہ واقعہ آج سے ساڑھے 3 ہزار سال قبل پیش آیا تھا۔

فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد فرعون کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا گیا تھا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے ایک شخص نے ساحل پر پڑی فرعون کی لاش پہچان کر پہلے دربار کو بتایا، پھر اس کی لاش کو محل پہنچایا گیا، درباریوں نے اس کی لاش کو مصالحے لگا کر پوری شان و احترام کے ساتھ تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہوگئی تھی، فرعون چونکہ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصے تک پانی میں رہنے کے باعث اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی۔ مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی طرح حنوط کر دیا۔

اللہ کی کتاب قرآن کریم میں فرعونوں کے قصے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیئے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں اس فرعون کا جسم محفوظ کرنے سے متعلق آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ سال 1871 میں مصر کے شہر الغورنیہ سے تعلق رکھنے والے غریب اور معمولی چور احمد عبدالرسول کو فرعونوں کی حنود شدہ لاشوں کی طرف جانے والے خفیہ راستے تک رسائی مل گئی۔ احمد عبدالرسول نوادرات چوری کر کے بیچا کرتا تھا۔ ایک دن وہ دریائے تیل کے کنارے کے قریب طبیسہ کے مقام پر اسی سلسلے میں پھر رہا تھا جب اسے اس خفیہ راستے کا علم ہوا۔ جب وہ وہاں نوادرات کی چوری کے لیے سرنگ کھود رہا تھا تب اسے کچھ لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس جگہ کی مسلسل کھدائی عمل میں لائی گئی اور سال 1891 کو دوسری ممیوں کے ساتھ فرعون کی لاش بھی ملی۔ اس کے کفن پر سینے کے مقام پر اس کا نام درج تھا۔ اس کی لاش پر تحقیق کی گئی تو اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ فرعون کی لاش ہے۔

سال 1986 میں فرعون کی ممی خراب ہونے لگی تو اس وقت کی مصری حکومت نے فرانس کی حکومت سے درخواست کی کہ فرعون کی ممی کو خراب ہونے سے بچایا جائے، جدید سائنسی ذرائع سے اس کی موت کی وجہ بھی معلوم کی جائے۔ بعدازاں فرعون کی ممی کو فرانس لے جایا گیا اور اس کے لیے باقاعدہ فرعون کا پاسپورٹ بھی بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کے فرانس کے قانون کے مطابق لاشوں کا بھی پاسپورٹ بنایا جاتا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے بہت شان و شوکت اور کسی عظیم زندہ بادشاہ کی طرح فرعون کی ممی کا ائر پورٹ استقبال کیا۔

اس کے بعد فرعون کی ممی کو ماہر ڈاکٹر کی ٹیم کے حوالے کیا گیا جس کی سربراہی ڈاکٹر (Maurice Bucaille) نے کی۔ مائیکرو اسکوپ ٹیسٹنگ کے ذریعے تمام اعضاء کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی لاش اور جسم میں سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں اور اس کا گوشت ہر روز تازہ ہوتا ہے اور بڑھتا رہتا ہے۔ اور موت بھی اس کی پانی میں ڈوبنے کے باعث ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کو علم تھا کہ لاش کسی اسلامی ملک سے ملی ہے۔ تجسس کے ہاتھوں وہ مجبور ہوکر فرانسیسی ڈاکٹر مورس مصر گئے جہاں انہوں نے ایک مصری سائنسدان سے ملاقات کی۔ اس مصری سائنسدان نے قرآن پاک کھول کر سورۃ یونس کی آیات 90 اور 96 کا ترجمہ کر کے لفظ بہ لفظ سنایا۔

فرعون کے بال اور ناخن تاحال بڑھتے ہیں اس حوالے سے سائنسدان بھی یہی کہتے ہیں کہ انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے بال اور ناخن بڑھتے رہتے ہیں۔ ہر سال 15 مارچ کو مصر کے میوزیم میں رکھی فرعون کی ممی پر چوہے چھوڑے جاتے ہیں اور وہ اس کا بڑھا ہوا گوشت کھا جاتے ہیں اور پھر فرعون کی ممی کی ڈریسنگ کرنے کے بعد دوبارہ اسے شیشے کے تابوت میں رکھ دیا جاتا ہے

Facebook Comments