موبائل پر فحش مواد دیکھنے کے حوالے سے بھارتی شہری دنیا بھر میں سرِفہرست ہیں

Indian citizens are the world leader in viewing pornographic content on mobile
05جنوری2020
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک: (نئی دہلی) یہ بات فحش مواد دکھانے والی سب سے بڑی ویب سائٹ پورن ہب نے ایک رپورٹ میں بتائی، جس کے مطابق 2019 میں 89 فیصد بھارتی شہریوں نے پورن ویڈیوز کو موبائل ڈیوائسز میں دیکھا اور ایسا اس وقت ہوا جب بھارت میں اس ویب سائٹ پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ہر 4 میں سے 3 افراد فحش مواد موبائل فونز پر دیکھتے ہیں اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کی اہمیت کم ہو چکی ہے، جبکہ اس ویب سائٹ پر موبائل ٹریفک میں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سابق پورن اسٹار میا خلیفہ پہلی بار اپنے پورن کریئر پر کھل کر بات کرتے ہوئے

بھارت کے بعد امریکا 81 فیصد کے ساتھ دوسرے جبکہ برازیل 79 فیصد کے تیسرے نمبر پر رہا۔ جاپان میں 70 فیصد افراد اس طرح کا مواد اسمارٹ فونز پر دیکھنے کے عادی ہیں جبکہ برطانیہ میں 74 فیصد صارفین ایسا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں اسمارٹ فونز میں فحش مواد کو دیکھنے کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ سستے موبائل ڈیٹا پلانز کی دستیابی کے ساتھ مڈرینج اور فلیگ شپ فونز کی قیمتوں میں بھی کمی قرار دی گئی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فیس بک پر ہر ماہ فحش مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے، این بی سی

بھارت اس وقت فی فون سب سے زیادہ موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ملک ہے جہاں اوسطاً ماہانہ ہر صارف 9.8 جی بی انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ 2024 تک اس شرح میں دوگنا اضافے کی توقع ہے اور یہ 18 جی بی تک پہنچ جائے گا، اسی طرح 2021 میں بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 82 کروڑ تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں اکتوبر 2018 میں 827 پورن ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کی وجہ ایک ریپ کیس بنا تھا جس میں ملزم نے اس طرح کا مواد دیکھ کر جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مگر اب بھی بھارت کے 91 فیصد صارفین کو پورن ہب تک موبائل فونز پر رسائی حاصل ہے، جبکہ اکتوبر 2018 سے بھارت میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) ڈاﺅن لوڈ کرنے کی شرح میں 405 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پاکستان میں 9 لاکھ ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا

2018 میں بھارت کی جانب سے ملک میں پورن کو بلاک کرنے کی کوشش پہلی بار نہیں کی گئی تھی بلکہ 2015 میں بھی 857 سائٹس کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے مگر یہ فیصلہ بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔

Facebook Comments