میں چار سال پہلے مر چکا ہوں لہٰذا مجھے رہا کیا جائے

Prisoner
13نومبر2019
(فوٹو فائل)

ویب ڈیسک:‌ (لووا) امریکا میں ایک قیدی نے اپنی سزا ختم کرانے کے لیے عدالت میں انوکھی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میں 4 سال قبل مرگیا تھا ڈاکٹر پانچویں باری میں میری سانسیں لوٹانے میں کامیاب ہوئے تھے اس لیے عمرقید ختم کر کے مجھے رہا کیا جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی ریاست آئیووا کی ایک جیل میں قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے بنجمن شریبر نے اپنی سزا ختم کرانے کے لیے عدالت میں انوکھی دلیل کے ساتھ درخواست دائر کر دی۔

قیدی نے موقف اختیار کیا کہ 4 سال قبل گردوں میں پتھری کے باعث اس کے جسم میں زہر پھیل گیا تھا اور ڈاکٹر نے اسے مردہ بھی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ایک مردہ شخص کو زندہ کرنے کے لیے پانچ بار کوششیں کرنی پڑی تھیں، اس کا آپریشن ہوا اور صحت یابی کے بعد اسے واپس جیل بھیج دیا گیا۔

قیدی نے مزید کہا کہ جب ڈاکٹر نے میری موت کی تصدیق کردی تو تکنیکی طور پر میری عمر قید کی سزا ختم ہوگئی اس لیے عدالت مجھے آزادی کا پروانہ جاری کرے تاہم ڈسٹرکٹ کورٹ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اپیل ناقابل یقین اور میرٹ پر پوری نہیں اترتی، اس لیے قابل سماعت نہیں۔ قیدی نے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی وہ بھی مسترد ہو گئی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: زوریکا گزشتہ 40 برس سے سرخ لباس ہی کیوں پہن رہی ہیں ؟

واضح رہے کہ بنجمن شریبر نے 1990ء میں ایک آدمی کو ڈنڈے مار کر قتل کردیا تھا جس پر اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Facebook Comments